کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن اور بہنوئی گورنمنٹ ملازم تھے، میری بہن اور بہنوئی کا 1979 میں ایک کار ایکسیڈینٹ کے اندر دونوں بچوں کے ساتھ انتقال ہوگیا، آفس کے جو حساب کتاب تھے ، بہنوئی کا انکے والدین کو ملااور بہن کا حساب میری والدہ کو ملا، اور اسی رقم سے میری والدہ نے گھر بنوایا، بہن کے انتقال کے وقت ورثاء میں والدہ، دو بھائی اور دو بہنیں حیات تھیں، جبکہ والد محترم کا انتقال بہن سے پہلے 1970 میں ہوا تھا، اس کے بعد والدہ کا انتقال 2014 میں ہوا ، اور ورثاء میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں حیات تھیں، اس کے بعد بڑے بھائی کا انتقال بھی 2014 میں ہوا والدہ کے انتقال کے بعد، بڑے بھائی کی بیوی حیات ہے،وہ اسی گھر میں رہتی ہے، بڑے بھائی کی کوئی اولاد نہیں ہے،اس کے بعد بڑی بہن کا انتقال اگست 2024میں ہوا، اس کے ورثاء میں شوہر ، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں زندہ ہیں، میری ایک بڑی بہن تھی جو انڈیا میں رہتی تھیں، ان کا بھی انتقال ہوگیا ہے، ان کے بچوں میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا حیات ہے، یہ انڈیا والی بہن میرے والد صاحب کی پہلی بیوی سے تھی ، یعنی باپ شریک تھی، کیا انکا حصہ بھی ہوگا؟ براہ کرم قرآن و سنت کی رو سے مذکور ورثاء میں تقسیم کس طرح ہوگی؟
صورت مسئولہ میں بیان کردہ کیفیت کے مطابق سائل کی مرحومہ بہن اگر اپنی حیات میں ہی ملنے والی رقم کی حقدار بن چکی تھی، تو اس رقم سے خریدا جانےوالا مکان مرحومہ بہن کا ترکہ شمار ہوگا ، اور تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائے گا ، البتہ سائل کی انڈیا والی بہن چونکہ مرحومہ کی باپ شریک بہن ہے ، لہذا دیگر قریبی ورثاء کی موجودگی میں وہ یا اس کے ورثاء مرحومہ کے ترکہ میں شرعاً حصہ دار نہ ہونگے۔ اس کے بعد واضح ہو کہ مرحومہ کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل دوہزار آٹھ سو اسّی (2880) حصے بنائےجائیں، جن میں سے مرحومہ کے بھائی کو تیرہ سو بیس (1320) حصے، بہن کو چھ سو ساٹھ (660) حصے، بھابھی کودوسو چالیس (240) حصے ، بہنوئی کو ایک سو پینسٹھ (165) حصے، بھانجے کو ایک سو اٹھانوے (198) حصے، جبکہ ہر بھانجی کو ننانوے (99) حصے دیےجائیں .
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0