کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والدین کا انتقال ہوچکا ہے اور ان کی ملکیت میں ایک گھر تھا ، انکے انتقال کے وقت چار بیٹے اور چھ بیٹیاں حیات تھیں ، پھر اس کے بعد سب سے بڑے بیٹے کا انتقال ہوا، اور اس کے ورثاء میں بڑے بھائی کی بیوہ ، چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ، والدین کا مملوکہ مکان ابھی فروخت کیا گیا جس کی کل مالیت تیس لاکھ تیس ہزار (3030000) ہے. براہ کرم قرآن و سنت کی رو سے مذکورہ ورثاء میں تقسیم کس طرح ہوگی؟
صورت مسئولہ میں حقوق متقدمہ علی المیراث(کفن، دفن کے متوسط مصارف، واجب الادا قرض اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد)اگر ترکہ میں یہی رقم مبلغ 3030000(تیس لاکھ تیس ہزار)روپے بچتے ہوں اور مرحومین کے موجودہ ورثاء بھی یہی ہوں ، ان کے علاوہ کوئی وارث موجود نہ ہو تو یہ ترکہ مرحومین کے زندہ ورثاء میں اس طور پر تقسیم ہوگا کہ مرحومین کے ہر بیٹے کو چار لاکھ بتیس ہزار آٹھ سو ستاون(432857)روپے، ہر بیٹی کو دو لاکھ سولہ ہزار چار سو اٹھائیس (216428)روپے،بہو(مرحوم بیٹے کی بیوہ)کو چوّن ہزار ایک سو سات(54107)روپے، ہر پوتے (مرحوم بیٹے کے بیٹے)کو چوراسی ہزار ایک سو چھیاسٹھ(84166) روپے، جبکہ ہر پوتی(مرحوم بیٹے کی بیٹی)کو بیالیس ہزار تراسی(42083)روپے ملیں گے۔