السلام علیکم
ہمارے والد صاحب فوت ہوچکے ہیں، ورثاء میں دو بھائی (اسد حسین، افضل حسین) اور چھ بہنیں (صابرہ خاتون، ناہید پروین، شبانہ کوثر، شباب کرن، رضوانہ ، شاہین ) موجود ہیں، ہمارے والد کی وراثت میں دو مکان ہیں، ایک چھبیس لاکھ روپے کا ، اور دوسرا پچھتر لاکھ روپے کا، ان دونوں مکانوں پر ہم سب نے ملکر پیسے لگائے ہیں، آپ سے پوچھنا ہے، کہ جو ہم سب نے پیسے لگائے ہیں دونوں گھروں پر ، کیا ان پیسوں کے حساب سے ہر ایک کو حصے ملیں گے، یا سب کو ایک جیسا حصہ ملے گا؟ رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور مکان پر ورثاء میں سے جس کسی نے بھی تعمیراتی اخراجات کیے ہیں، چاہے والد مرحوم کی حیات میں یا بعد میں، اگر اس موقع پر قرض اور بعد میں اپنا حساب وصول کرنے کی غرض سے اس نے یہ اخراجات کیے ہوں، جس کو دیگر ورثاء تسلیم کرتے ہوں یا اس کا کوئی ثبوت موجود ہو، تو ایسی صورت میں تقسیم ترکہ سے قبل اپنے اخراجات کے بقدر اسے رقم وصولی کا حق ہے، ورنہ نہیں،