کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں ڈپلومیٹک فورم فار سوشیو اکنامک فاؤنڈیشن کے نام سے ایک فاؤنڈیشن 2016 میں بنائی گئی جو باقاعدہ NGO کی طرز پر کام کر رہی ہے۔ یہ فاؤنڈیشن گورنمنٹ آف پاکستان کے قانون کے مطابق رجسٹرڈ ہے۔ ڈپلومیٹک فورم 2016 سے پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور مثبت امیج اور پاکستان کی فلاح و بہبود کیلئے بہترین کردارادا کر رہی ہے۔ پچھلے چند سالوں سے فاؤنڈیشن سیمینارز اور کانفرنس کے ذریعہ اکنامک ڈیولپمنٹ، پاکستان میں بیرونی ممالک سے سرمایہ کاری لانے کیلئے آگاہی فراہم کر رہی تھی ۔ اب فاؤنڈیشن با قاعدہ سوشل ڈیولپمنٹ کیلئے انسانیت کی ترقی ، فلاح و بہبود، تعلیم کے فروغ، صحت کی سہولیات ، ماحولیات کو بہتر کرنے ،صاف پانی کی فراہمی ، اور غریبوں کی مدد، بے سہارا، بیوہ خواتین ، کم آمدنی والے افراد کو سپورٹ کرنے جیسے کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس پر کام شروع کر دیا گیا ہے، ڈپلومیٹک فورم جائز مقاصد کیلئے شرعی حدود کے دائرے میں رہ کر کام کررہی ہے۔ اس ادارے کو فنڈز، عطیات ، زکوۃ ، صدقات کی ضرورت پیش آتی ہے، کیا ہم فنڈز، زکات ، صدقات وصول کر سکتے ہیں ۔ ہمارا بینک میں اکاؤنٹ بھی فلاحی ادارہ NGOs کے طور پر کھلا ہوا ہے ۔ ہم نے اس فاؤنڈیشن کو حکومت سندھ کی جانب سے بنائے گئے ادارے سندہ چیرٹی کمیشن سے بھی رجسٹرڈ کرا لیا ہے۔ بینوا تؤجرو
سائل نے مذکور فاؤنڈیشن کے اصول وضوابط،زکاۃ خرچ کرنے کا طریقۂ کار اور تفصیل بیان نہیں کی،اس لئے خاص اس سے متعلق تو حکم شرعی بیان نہیں کیا جاسکتا،البتہ اصولی جواب یہ ہےکہ زکاۃ کی صحت اور درست ادائیگی کےلئے ضروری ہے کہ زکاۃ اور صدقاتِ واجبہ(جیسے:فطرانہ،کفارہ وغیرہ)کی رقم مستحقِ زکاۃ لوگوں کو بلا عوض مالکانہ قبضہ کے ساتھ حوالہ کی جائے،ورنہ زکاۃ کی ادائیگی درست نہ ہوگی۔
جبکہ مذکور ٹرسٹ کے ذکر کردہ مصارف میں زکاۃ کی رقم خرچ کرنے کی صورت میں مختلف فقہی اور شرعی احکام کی باریکیوں کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے،اس لئے سائل اور ٹرسٹ انتظامیہ کو چاہئیے کہ عملی تطبیق اور نگرانی کےلئے اس فیلڈ کے ماہر علماء کرام اور مفتیانِ کرام کی زیر نگرانی یہ امور سرانجام دینے کا اہتمام کریں تاکہ شرعاً بھی لوگوں کی زکاۃ کی ادائیگی درست ہوسکے۔
«الاختيار لتعليل المختار» :
«واعلم أن التمليك شرط. قال تعالى: {وآتوا الزكاة} [البقرة: 43] والإيتاء: الإعطاء ; والإعطاء: التمليك، فلا بد فيها من قبض الفقير أو نائبه كالوصي ... ولا يبنى بها مسجد ولا سقاية ولا قنطرة ولا رباط، ولا يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين ميت،»(1/ 121)
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» :
وقيد بالزكاة؛ لأن النفل يجوز للغني كما للهاشمي، وأما بقية الصدقات المفروضة والواجبة كالعشر والكفارات والنذور وصدقة الفطر فلا يجوز صرفها للغني لعموم قوله عليه الصلاة والسلام «لا تحل صدقة لغني» خرج النفل منها؛ لأن الصدقة على الغني هبة كذا في البدائع(2/ 263)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0