مسجد کے باہر کرکٹ کھیلنا اور جس کی وجہ سے گیند بار بار مسجد پر لگتا ہو
مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر اور شعائرِ اسلام میں سے ہے، اس کی حرمت، تعظیم اور احترام ہر مسلمان پر لازم ہے۔ لہٰذا مسجد کے باہر اس انداز سے کرکٹ کھیلنا کہ گیند بار بار مسجد کی دیواروں، کھڑکیوں، دروازوں یا چھت پر لگتی ہو، یا نمازیوں اور مسجد کی عمارت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، يااسکی وجہ سے نمازیوں کو تشویش، خشوع و خضوع میں خلل کا سبب بنتا ہو تویہ شرعاً درست نہیں۔جس سے اجتناب لازم ہے۔البتہ اگر کھیل ایسی جگہ ہو جہاں مسجد کی حرمت متاثر نہ ہو، نمازیوں کو تکلیف نہ پہنچتی ہو اور نہ ہی مسجد کو نقصان کا اندیشہ ہو تووہاں کھیلنے کی گنجائش ہوگی ،بشرطیکہ اس کی وجہ سے فرائض اور دیگر واجب ذمہ داریوں کا حرج نہ ہو۔
کمافی صحيح البخاري» :عن السائب بن يزيد قال:كنت قائما في المسجد، فحصبني رجل، فنظرت فإذا عمر بن الخطاب، فقال: اذهب فأتني بهذين، فجئته بهما، قال: من أنتما، أو من أين أنتما؟ قالا: من أهل الطائف، قال: لو كنتما من أهل البلد لأوجعتكما، ترفعان أصواتكما في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم.»(1/ 179)
وفی شرح صحيح البخاري» لابن بطال : قال بعض الناس: أما إنكار عمر رفع الصوت فى المسجد، فيدل أنهم رفعوا أصواتهم فيما لا يحتاجون إليه من اللغط الذى لا يجوز فى المسجد، ولذلك بنى عمر البطحاء خارج المسجد؛ لينزهه عن الخنا والرفث»(2/ 119)