کیا فرماتےہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل کےبارے میں:
1۔ کہ رمضان المبارک کے مہینہ میں کمپنی کے مالکان کی طرف سےکام کے دورانیہ کو روزہ داروں کیلئےکم کرکے ریلیف دیاجاتاہے،جبکہ غیر روزہ داروں کو یہ ریلیف نہیں دی جاتی ہے،تو اس میں شرعاً کوئی حرج ہے؟
2۔اور ایسا ہی رمضان میں روزہ نہ رکھنے والوں کیلئے پانی کی سہولت مہیانہیں کی جاتی،تاکہ ہم اس کاسبب نہ بنیں،توکیا اس طرح کرنا درست ہے؟
3۔اورساتھ یہ بھی کہ جومزدور روزہ نہیں رکھتے، ان کو عید کے موقع پر عیدی نہیں دی جاتی ہے،اس حوالہ سے شرعی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ رمضان المبارک کا روزہ رکھناہر عاقل، بالغ ،مقیم ،صحت مند مسلمان مرد وعورت پرفرض ہے، اور ان صفات کے حامل افرادکابلا عذر روزہ ترک کرنا سخت گناہ اور موجبِ عذاب ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں کمپنی کی طرف سے روزہ داروں کو اوقاتِ کار میں کمی یا دیگر سہولیات دینا دراصل کمپنی کی طرف سے ملازمین کے حق میں تبرع، احسان کے زمرے میں آتاہے جس کا اختیار مالکان کو حاصل ہے؛ لہٰذا روزہ داروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کو ریلیف دینا اور غیر روزہ داروں کو اس سے محروم رکھنا شرعاً جائز ہے، اسی طرح عید کے موقع پر عیدی میں بھی یہی تفریق کرنا فی نفسہٖ درست ہے، کیونکہ یہ ملازمین کاکوئی حق لازم نہیں ،جس کے مطالبہ کاانھیں حق حاصل ہو، البتہ بہتر اور مستحسن یہی ہے کہ عمومی احسانات میں حتی المقدور مساوات اور حسنِ سلوک کو ملحوظ رکھاجائے، تاکہ کسی ملازم کی دل آزاری نہ ہو۔
جبکہ بلاعذر روزہ نہ رکھنے والوں کو اس نیت سے پانی کی سہولت نہ دینا کہ معصیت میں تعاون نہ ہو، شرعاًجائزاوردرست ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص شرعی عذر (بیماری، سفر وغیرہ) کی بنا پر روزہ نہیں رکھ رہا تو اسے پانی یا ضروری سہولت سے محروم کرنا درست نہیں، بلکہ اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
کماقال الله تعالي في كلامه المجيد: "وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ" (سورة المائدة،آیت:2 )
وفی بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: والدليل على فرضية صوم شهر رمضان: الكتاب، والسنة، والإجماع، والمعقول، أما الكتاب: فقوله تعالى {يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون} [البقرة: 183] وقوله {كتب عليكم} [البقرة: 183] أي: فرض، وقوله تعالى {فمن شهد منكم الشهر فليصمه} [البقرة: 185] وأما السنة: فقول النبي صلى الله عليه وسلم «بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وحج البيت من استطاع إليه سبيلا» وقوله صلى الله عليه وسلم عام حجة الوداع: «أيها الناس اعبدوا ربكم وصلوا خمسكم وصوموا شهركم وحجوا بيت ربكم وأدوا زكاة أموالكم طيبة بها أنفسكم تدخلوا جنة ربكم» وأما الإجماع: فإن الأمة أجمعت على فرضية شهر رمضان، لا يجحدها إلا كافر.(ج:2،کتاب الصوم،ص:75،مط:سعیدکراچی)
وفي الجوهرةالنيرة علي مختصرالقدوري:ولنا أن الرهن عقد تبرع من جانب الراهن ولا إجبار على التبرعات..الخ(ج : 1، كتاب الرهن، ص:٢٣٨ ، مط: الخيرية)