اگر کوئی شخص روزہ قصداً جان بوجھ کر چھوڑ دے،اور کوئی عذر پیش کرے،مثلاً کہ گرمی بہت زیادہ ہے، اس لئے میں نہیں رکھ رہا،تو اسلام میں اس کا کیا حکم ہے؟ دوسرا اگر گناہ ہے،تو کیا گناہ ملے گا ؟
بلا عذر رمضان المبارک کا فرض روزہ قصداً چھوڑنا ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے،اور ایسا کرنے والا فاسق فاجر ہے، حاکمِ وقت اس گناہ کی وجہ سے اسپر سخت ترین تعزیری سزا بھی جاری کر سکتا ہے۔