مطلق بائن، صریح بائن کے ساتھ ملحق ہوتی ہے یا نہیں؟ مثلاً شوہر نے کہا کہ "میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں، میں آپ کو آذاد کرتا ہوں" تو پہلے جملے سے بھی اگر شوہر کی طلاق کی نیت ہو تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوگی، جبکہ دوسرے جملے سے بنوری ٹاؤن کی تحقیق کے مطابق ایک صریح بائن واقع ہوتی ہے، تو اس تحقیق کے مطابق دونوں بائن کا آپس میں لحوق ہوگا یا نہیں؟
جس صورت میں طلاق اول بائن ہو چاہے صریح بائن ہو یا کنائی بائن ہو اور طلاق ثانی صریح بائن ہو تو اس صورت میں دوسری صریح بائن پہلی طلاق بائن سے ملحق ہوتی ہے،البتہ سائل نے جو مثال ذکرکی ہے”میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں، میں آپ کو آزاد کرتا ہوں“اس میں مذکور جملہ ”میں آپ کو آزاد کرتا ہوں“ سے ہماری تحقیق کے مطابق طلاق رجعی واقع ہوتی ہے،اور طلاق ِثانی رجعی، طلاقِ اول بائن سے لاحق ہوکروہ بھی بائن ہوجاتی ہے،چناں چہ اگر پہلے جملے ”میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں“ سے شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہوتو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر مجموعی طور پر دو بائن طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔
كما في ردالمحتار: (قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح، وقيد بقوله الذي لا يلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال، وحينئذ فيكون المراد بالصريح في الجملة الثانية أعني قولهم فالبائن يلحق الصريح لا البائن هو الصريح الرجعي فقط دون الصريح البائن(باب الکنایات،ج:3،ص:308،ط:سعید)
وفیہ ایضا: (قوله الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا (قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية. ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة (باب الکنایات،ج:3،ص:306،ط:سعید)
و فیہ ایضا: فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ،و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ،لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (باب الکنایات،ج:3،ص:299 ،ط:سعید)