کیا انتہا سے زیادہ ضرورت مند سید زکوۃ لے سکتے ہیں، جبکہ وہ بہت شدید قرضے میں بندھے ہوئے ہوں اور ایسا کوئی کمانے کا ذریعہ بھی نہ ہو اور محنت مزدوری کر کے اپنے گھر کا خرچہ چلا رہے ہوں۔
واضح ہو کہ جمہور فقہاءِ احناف کے نزدیک سید (یعنی بنو ہاشم) کے لیے زکوٰۃ لینا جائز نہیں، خواہ وہ محتاج ہوں یا شدید قرض میں مبتلا ہوں؛ کیونکہ زکوٰۃ کو شرعاً "اوساخُ الناس "(مال کا میل) قرار دیا گیا ہے، اور آلِ رسول ﷺ کی تکریم کے پیشِ نظر انہیں اس سے منع فرمایا گیا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورسیدشخص کےلیےشدید حاجت اور قرض کی کثرت کے باوجود بھی زکوٰۃ لینا جائز نہیں ، البتہ صاحبِ حیثیت مسلمانوں کوچاہیےکہ وہ سادات کے لیےباقاعدہ تعاون اور کفالت کا انتظام کریں اورایسے ضرورت مند سادات کی مدد نفلی صدقات، عطیات اور ہدایا وغیرہ سے کی جائے ، پس سادات کی اعانت کا راستہ بند نہیں، بلکہ زکوٰۃ کے علاوہ دیگر مشروع ذرائع سے ان کی خبر گیری کرنا اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے، لیکن اگرزکوٰۃ کے علاوہ دیگرذرائع سے ضرورت پوری نہ ہورہی ہواورشدیدمجبوری کی کیفیت درپیش ہوتو مجبوراًیہ طریقہ اختیار کیا جاسکتاہے کہ کسی مستحق زکوٰۃ کو رقم قرض کےطور پر دی جائے اور اس کو سادات کو بطور ہدیہ دینے کی ترغیب دی جائے ، جب وہ رقم سادات کو ہدیہ کر دےتو اس کے بعد زکوٰۃ کی رقم اس کو مالکانہ طور پر دیدی جائے ، تاکہ وہ اپنا قرضہ ادا کر دے ، اس طرح زکوٰۃ بھی ادا ہوجائیگی اور سادات کے ساتھ تعاون بھی ہو جائیگا۔
کما فی الھندیۃ:ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهدايةالخ (الباب السابع فی المصارف،ج:1،ص:189،ناشر:بیروت)
کمافی الدرالمختار:(وجازت التطوعات من الصدقات و) غلة (الأوقاف لهم) أي لبني هاشم، سواء سماهم الواقف أو لا على ما هو الحق كما حققه في الفتح اھ (باب مصرف الزكاة والعشر، ج:2، ص: 351، ناشر: سعید)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0