مباحات

کیا کسی مشکل یا پریشانی کے باوجود شوہر کے گھر میں عدت گزارنا لازم ہے؟

فتوی نمبر :
92013
| تاریخ :
2026-02-11
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کیا کسی مشکل یا پریشانی کے باوجود شوہر کے گھر میں عدت گزارنا لازم ہے؟

کیا اسلامی تعلیمات، کسی بھی شکل یا مشکل صورت حال میں طلاق کے بعد عدت کے دوران مرد اور عورت کو گھر میں ایک چھت کے نیچے رہنے کی اجازت دیتی ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ طلاق کے بعد عورت پر اسی گھر میں عدت گزارنا شرعاً لازم ہے جہاں اسے طلاق دی گئی ہو، اورشوہر کو بھی بلا عذرشرعی اسے گھر سے نکالنے کی اجازت نہیں۔ البتہ طلاق مغلظہ يا طلاق بائن كى صورت مىں چونكہ نكاح ختم ہوكر مياں بىوى دونوں اىك دوسرے كے لئىے اجنبى بن جاتے ہىں ، لہذا دوران عدت مكمل شرعى پرده كا اہتمام لازم ہے، بے محابا آمنے سامنے آنے، گپ شپ لگانے اور تنہائى اختيار كرنے سے مكمل اجتناب لازم ہے، لىكن اگر عورت كو شوہر كے گھر رہتے ہوئے اپنى پاكدامنى اور عفت برقرار ركھنا مشكل ہو، تو ايسى صورت مىں وه اپنے والدين كے گھر منتقل ہوكر وہاں عدت پورى كر سكتى ہے.

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلى قوله) (ولا بد من سترة بينهما في البائن) لئلا يختلي بالأجنبية، ومفاده أن الحائل يمنع الخلوة المحرمة (وإن ضاق المنزل عليهما، أو كان الزوج فاسقا فخروجه أولى) لأن مكثها واجب لا مكثه) (إلى قوله) وفي المجتبى الأفضل الحيلولة بستر، ولو فاسقا فبامرأة. قال: ولهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتهى.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: ولا بد من سترة بينهما في البائن) (إلى قوله) وظاهره أن لا سترة في الرجعي، (إلى قوله) (قوله: وفي المجتبى إلخ) حيث قال: والأفضل أن يحال بينهما في البيتوتة بستر إلا أن يكون فاسقا فيحال بامرأة ثقة، وإن تعذر فلتخرج هي وخروجه أولى اهـ ملخصا. (باب العدة، فصل في الحداد، ج: 3، ص: 537-538، ط: إيج إيم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92013کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات