میری چھوٹی بہن بیوہ ہے، اس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، چند ماہ پہلے اسے دل کا مسئلہ ہوا، میں نے کچھ رقم خرچ کی جب وہ ہسپتال میں تھی، کیا وہ رقم زکوٰۃ میں شمار ہوتی ہے، کیونکہ میرے پاس زکوٰۃ کی رقم باقی تھی؟
واضح ہو کہ زکوۃ ادا کرتے وقت اس کی صحت ودرستگی کیلئے زکوۃ دینے کی نیت سے مستحق شخص کو اس کا مالک بنانا ضروری ہوتا ہے،لہذا سائل کی بہن کے علاج پر اس کی جانب سے خرچ کی گئی رقم پر اسے باقاعدہ مالکانہ قبضہ نہ دیا گیا ہو ،بلکہ سائل نے یہ رقم اس کے علاج معالجہ پر براہ راست خرچ کی ہو، تو اس خرچ کردہ رقم کو سائل زکوۃ میں شمار نہیں کرسکتا، اور نہ اس طرح اس کی زکوۃ درست ادا ہوگئی ہے ۔
کما فی درالمختار: (هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بم (جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه (عينه الشارع) وهو ربع عشر نصاب حولي خرج النافلة والفطرة (من مسلم فقير) ولو معتوها (غير هاشمي ولا مولاه) أي معتقه، وهذا معنى قول الكنز تمليك المال: أي المعهود إخراجه شرعا (مع قطع المنفعة عن المملك من كل وجه) فلا يدفع لأصله وفرعه (لله تعالى) بيان لاشتراط النية اھ(کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:256،مط:سعید)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0