السلام علیکم
محترم جناب درافتاء:سوال یہ ہے کہ زکوٰۃ
کتنی ادا کرنی ہوگی ؟نصاب درج ذیل ہیں :
ٹوٹل رقم :1565000جس میں سے40گرام سونا خریدا
2-12-2024کو1 رمضان کو جو رقم میرے پاس تھی وہ346000جس پر زکوۃ ادا کر دی ۔
کیا خریدے گئے سونے پر زکوۃ ادا کرانا ہوگی؟ جبکہ سونا رمضان سے 3 ماہ پہلے خریدا گیا تھا۔
واضح ہو کہ صاحبِ نصاب شخص اگر زکوۃ کی تاریخ آنے سے قبل (چاہے ایک دن ہی قبل کیوں نہ ہو) دورانِ سال سونا، چاندی خرید لے اور وہ زکوٰۃ ادا کرنے کی تاریخ تک اس کی ملکیت میں رہے تو ایسی صورت میں اگرچہ اس سونے چاندی پر الگ سے مستقل سال نہ بھی گزرا ہو، تب بھی زکوٰۃ کی تاریخ میں دیگر اموال زکوۃ کےساتھ اس سونے چاندی کی زکوٰۃ بھی لازم اور ضروری ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے زکوٰۃ ادا کرتے وقت مذکورسونے کی قیمت بھی ساتھ لگا کر زکوٰۃ ادا کی ہے تو اس سونے کی بھی زکوٰۃ ادا ہو گئی ہے،ورنہ جلد از جلد سونے کی زکوۃ کی بھی ادا کرنے کی کو شش کرے۔
كما في الهندية:ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك، ولو كان من غير جنسه من كل وجه كالغنم مع الإبل فإنه لا يضم هكذا في الجوهرة النيرة.( الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:١،ص:١٧٥،ط:ماجديه)
وفي فتح القدير:(قوله فاستفاد في أثناء الحول من جنسه) بميراث أو هبة أو شراء(كتاب الزكاة،ج:٣،ص:١٤٨،ط:رشيديه)
وفي البناية:(قال) ش: أي القدوري م: (ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول من جنسه ضمه إليه) ش: أي ضم الذي استفاده إلى النصاب الذي معه م: (وزكاه به) ش: أي زكى الذي استفاده بالنصاب الذي معه والمستفاد على نوعين؛ الأول: أن يكون من جنسه كما إذا كانت له إبل فاستفاد إبلا في أثناء الحول يضم المستفاد إلى الذي عنده فيزكي عن الجميع(كيفية زكاة المال المستفاد أثناء الحول،ج:٣،ص:٣٥٣،ط:الكمتبة الغفارية)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0