مباحات

خواتین ورزش کیلئے جم جا سکتی ہیں؟

فتوی نمبر :
91244
| تاریخ :
2026-01-21
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

خواتین ورزش کیلئے جم جا سکتی ہیں؟

بخدمت حضرت مفتی صاحب (مدظلہ العالی) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک اہم شرعی اور سماجی معاملے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ ہمارے گھر کی خواتین (والدہ اور بہن) اپنی جسمانی صحت کی بہتری اور مستقبل کی سنگین طبی پیچیدگیوں سے بچاؤ کے لیے ایک ایسے خواتین کے فٹنس سینٹر (Gym) میں داخلہ لینا چاہتی ہیں۔ جہاں درج ذیل شرائط کی مکمل پاسداری کی جاتی ہے: مکمل شرعی پردہ: وہ جگہ چاروں طرف سے بند ہے، کھڑکیاں اور دروازے اس طرح ڈھکے ہوئے ہیں کہ: باہر سے کسی کی نظر اندر نہیں پڑ سکتی۔عدمِ اختلاط (No Male Presence): وہاں مردوں کا داخلہ قطعی ممنوع ہے۔ ٹرینر، صفائی کا عملہ اور انتظامیہ، سب کی سب خواتین ہیں۔لباس کا لحاظ: خواتین وہاں خواتین ہی کی موجودگی میں ساتر لباس پہن کر مخصوص ورزشیں کرتی ہیں۔
اس مطالبے کی اہم طبی اور شرعی وجوہات درج ذیل ہیں جن پر ہم آپ کی توجہ چاہتے ہیں: ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل: پاکستان میں 70 سے 80 فیصد خواتین وٹامن ڈی کی کمی اور 'آسٹیو پورس' (ہڈیوں کے بھر بھرے پن) کا شکار ہیں۔ میری والدہ (عمر 30+) اسی خطرے کے پیشِ نظر ورزش کرنا چاہتی ہیں تاکہ وہ مستقبل میں وہیل چیئر اور معذوری سے بچ سکیں۔ طبی تحقیق کے مطابق 'ویٹ ٹریننگ' ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کا واحد ذریعہ ہے۔ زچگی کی پیچیدگیاں: پاکستان میں سست طرزِ زندگی کی وجہ سے 'سی-سیکشن' (بڑے آپریشن) کی شرح 40 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق 'Pelvic' پٹھوں کی کمزوری اس کی بڑی وجہ ہے۔ مخصوص ورزشیں ان پٹھوں کو مضبوط کر کے نارمل ڈلیوری کے امکانات بڑھاتی ہیں اور عورت کو جان لیوا پیچیدگیوں سے بچاتی ہیں۔ ہارمونز کا بگاڑ (PCOS): ہماری نوجوان نسل (بشمول میری بہن) میں 'ہارمونل امبیلنس' اور ماہواری کی شدید تکالیف ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہیں، جس کا علاج صرف اور صرف باقاعدہ جسمانی سرگرمی ہے۔ جسم اللہ کی امانت: اسلام میں جسم کو اللہ کی امانت قرار دیا گیا ہے اور صحیح بخاری (1975) کی حدیث ہے: "تمہارے جسم کا تم پر حق ہے"۔ کیا اس حق کی ادائیگی کے لیے ایسی محفوظ جگہ جانا جائز نہیں؟
سوال: کیا ان شدید طبی ضروریات اور مکمل پردے کے انتظامات کے باوجود، خواتین کا ورزش کے لیے جانا شرعی طور پر جائز ہے؟ نیز، کیا محض "لوگوں کی باتوں" یا "علاقائی رسوم" کی وجہ سے خواتین کو اس بنیادی حق اور طبی ضرورت سے روکنا اسلام میں پسندیدہ ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر سوال میں مذكور جم مىں ذکر کردہ شرعی شرائط کا لحاظ رکھا جاتا ہو تو ایسی صورت میں سائل کے گھر کی خواتین کے لیے جسمانى صحت كى بہترى کے لیے ایسی جم میں داخلہ لینے كى گنجائش ہے، اس میں شرعا کوئى حرج نہیں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91244کی تصدیق کریں
2     162
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات