السلام علیکم ،مفتی صاحب !امید ہے کہ آپ بخیریت ہونگے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرا بھائی مجھے زکوٰۃ دے سکتا ہے کہ نہیں ؟ میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب کر رہا ہوں اور میری آمدنی ۵۰۰۰۰ پچاس ہزار ہے مہینے کی جس میں ، میں اپنے رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات نکالوں تو کوئی سیونگ نہیں ہوتی ۔ اس کے علاوہ میرے پاس ایک آئی فون ہے جو کہ تقریباً ڈھیڈ لاکھ کا ہے ،وہ بھی بھائی کی امداد سے ملا ہے ، باقی میرے نام پر ایک پلاٹ ہے ،جس کا مالک صرف کاغذوں میں، میں ہوں اور اصل میں پلاٹ میرے بھائی کا ہے ،جس ٹائم وہ چاہے مجھ سے لے لیگا، باقی والد صاحب نے ایک فصل والی زمین میں ہم تمام بھائیوں کے نام لکھی ہیں، لیکن فی الحال میرا اس زمین پرکوئی کنٹرول نہیں ،ابھی وہ زمین صرف میرے والد صاحب کے نام پر ہے ،ہمارے نام وراثت میں ڈالے ہوئے ہیں ،تو ابھی ایک دو ماہ میں میری منگنی ہونی ہے،جس کے لئے مجھے مالی امداد کی ضرورت ہوگی ،تو کیا میرا بھائی زکوٰۃ کے پیسے مجھے دے سکتا ہے ؟ مہربانی فرما کر رہنمائی کر دیجیے ۔ جزاک اللّٰہ!
سائل کی ملکیت میں اگر ساڑھے سات تولہ سونا،یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی، مال تجارت یا ضروریا تِ اصلیہ سے زائد سامان موجود نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو،تو ایسی صورت میں سائل کے بھائی کا سائل کو زکوۃدینا شرعاً جائز اور درست ہے ،اور اس سے بھائی کی زکوۃ بھی بلاشبہ ادا ہو جائے گی ۔
کما في الفتاوى الهندية: فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى الخ(کتاب الزکاۃ،ج:1،ص:170،ط: ماجدیة)۔
وفی الدر المختار: أي مصرف الزكاة (الی قوله) (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ (باب المصرف،ج 2، ص 339، ط: سعید)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0