مجھے ایک مرض ہے کہ پیشاب سے فراغت صحیح نہیں ہوتی ، حالانکہ میں قطرے نکالنے کے لۓ بہت دیر حمام میں لگادیتا ہوں ، یعنی کھڑے ہوکر دائیں ٹانگ بائیں پر اور بائیں دائیں پر رکھ کر حرکت دیتا ہوں ، تا کہ ممکنہ قطرے نکل جائیں ، لیکن وضو کرنے کے بعد بعض اوقات قطرہ محسوس ہوتا ہے جلن کے ساتھ ، میں بہت پریشان ہوں اس کی وجہ سے ، امامت میں بھی آگے نہیں بڑھتا ہوں ، میرے بارے میں مشورہ دیں میں کیا کروں؟
سائل کو چاہیۓ کہ وضو کرنے سے پہلے اچھی طرح اطمینان کرلے کہ پیشاب کے قطرے نکلنا بند ہوگئے ہیں تب وضوء کرکے نماز پڑھ لے ، تاہم اگر وضو کرلینے کے بعد واقعۃً کوئی قطرہ نکلا ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا اور دوبارہ وضوء کرنا لازم ہوگا اور اگر اس سلسلہ میں سائل کسی ماہر معالج سے بھی رجوع کرلے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
فی الدّر المختار : یجب الاستبراء بمشی أو تنحنح أو نوم علی شقه الأیسر و یختلف بطباع الناس الخ و فی الشامیة تحت : (قوله : أو تنحنح) لأن العروق ممتدة من الحلق إلى الذكر و بالتنحنح تتحرك و تقذف ما في مجرى البول . اهـ. ضياء . (قوله : و يختلف إلخ) هذا هو الصحيح فمن وقع في قلبه أنه صار طاهرا جاز له أن يستنجي ؛ لأن كل أحد أعلم بحاله ضياء اھ (1/344)۔
و في النتف في الفتاوى : و ينقض الوضوء عشرون شيئا بعضها بالاتفاق و بعضها بالاختلاف اربعة من القبل و ثلاثة من الدبر و خمسة من الفم و اربعة من جميع البدن و اربعة من غير اشارة من موضع فأما التي من القبل فالبول و المذي و الوذي لا خلاف فيها اھ (1/ 26)۔