نجاسات اور پاکی

شاور سے نہاتے وقت اگر پانی کپڑوں کو لگے تو کپڑے ناپاک ہونگے؟

فتوی نمبر :
90471
| تاریخ :
2026-01-01
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

شاور سے نہاتے وقت اگر پانی کپڑوں کو لگے تو کپڑے ناپاک ہونگے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کیا حال ہے خیریت ہے ۔
مفتی صاحب ایک سوال ہے وہ یہ کہ مثلا بدن پر پیشاب وغیرہ لگ جائے یا منی وغیرہ اور ہم شاور سے نہائے اس کے بعد آخر میں شاور بند کریں تو جو پانی چپل میں اور پاؤں پر ہوتا ہے وہ کپڑے پہنتے وقت شلوار
قمیض پر جب وہ پانی پاؤں کا لگتا ہے تو کیا اسے کپڑے ناپاک ہوتے ہیں؟ کیونکہ صرف شاور کی نیچے نہایا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر بدن پر نجاست لگنے کے بعد سائل ایسی جگہ پر غسل کرے جہاں پانی جمع نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں غسل کے بعد پاؤں پر جو بچا ہوا پانی شلوار قمیض پر لگتا ہے وہ پاک ہے، اس سے کپڑاناپاک نہیں ہوتا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن النسائي:عن ابن عباس، قال: حدثتني خالتي ميمونة قالت: «أدنيت لرسول الله صلى الله عليه وسلم غسله من الجنابة، فغسل كفيه مرتين أو ثلاثا، ثم أدخل بيمينه في الإناء، فأفرغ بها على فرجه، ثم غسله بشماله، ثم ضرب بشماله الأرض، فدلكها دلكا شديدا، ثم توضأ وضوءه للصلاة، ثم أفرغ على رأسه ثلاث حثيات ملء كفه، ثم غسل سائر جسده، ثم تنحى عن مقامه، فغسل رجليه قالت: ثم أتيته بالمنديل، فرده(باب: غسل الرجلين في غير المكان الذي يغتسل فيه،ص:٨٧،مط:البشرى)
وفي الدر المختار:فلا يؤخر قدميه ولو في مجمع الماء لما أن المعتمد طهارة الماء المستعمل، على أنه لا يوصف بالاستعمال إلا بعد انفصاله عن كل البدن لأنه في الغسل كعضو واحد، فحينئذ لا حاجة إلى غسلهما ثانيا إلا إذا كان ببدنه خبث ولعل القائلين بتأخير غسلها إنما استحبوه ليكون البدء والختم بأعضاء الوضوء(سنن الغسل.ج:١،ص:١٥٧،مط:سعيد)
وفي رد المحتار:(قوله: إلا إذا كان إلخ) أي فيلزمه إعادة غسلهما للنجاسة فقط. (سنن الغسل.ج:١،ص:١٥٨،مط:سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90471کی تصدیق کریں
0     312
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات