کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام بابتِ اس مسئلے کے بارے میں کہ:
(۱) اگر رمضان میں دورانِ اعتکاف معتکف جمعے کا مسنون غسل کرے اور خوب اچھی طرح صفائی کرے، اپنے بال بھی صاف کرے، تو کیا اس طرح اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ اگر ٹوٹ گیا ہے تو اب اعادے کی کیا صورت ہے؟
(۲) گائے کو ٹیکہ لگوانا کیسا ہے؟ یعنی بعض لوگ گائے کو بیل کے ساتھ جفتی کرواتے ہیں، جبکہ بعض لوگ گھر ہی پر ڈاکٹر بلا کر گائے کو ٹیکہ لگواتے ہیں۔ ٹیکے میں بیل ہی کا منی ہوتا ہے۔
(۳) جامعہ بنوریہ میں جو سیّد طلبہ ہیں، ان کے لیے مدرسے میں قیام و طعام کرنا کیسا ہے؟ کیونکہ مدرسے میں زکوٰۃ کے اموال بہت آتے ہیں، زکوٰۃ کے پیسے سے ہی طلبہ کی ضروریات وغیرہ پوری ہوتی ہیں۔ اگر سادات کے لیے یہ جائز نہیں ہے تو یہ طلبۂ کرام کیا کریں؟
برائے کرم قرآن و سنت کی روشنی میں ان سوالات کے جوابات دے کر ممنون فرمائیں۔
اگرچہ بعض علما نے غسل جمعہ کے لیے نکلنے کی جواز کا قول کیاہے مگر راجح یہ ہے کہ غسل فرض کے علاوہ معتکف کیلئے مسجد سے نکلنا درست نہیں ا س سے اعتکاف ٹوٹ جائےگا ا و ر قضا فقط ایک ہی دن کی لازم ہوگی ا و ر ا س میں روزہ رکھنا بھی لازم ہے۔
(۲)۔ گائے کو بیل سے جفتی کرانا یا اسے انجکشن لگوانا ہر دو امور جائز ا و ر درست ہیں۔
(۳)۔ واضح ہو کہ سید مال زکوٰۃ لینے کا مستحق نہیں ا س لیے اُسے زکوٰۃ کا مال لینے ا و ر اپنی ضرورت میں استعمال کرنے سے احتراز لازم ہے جبکہ مدرا س میں صدقات واجبہ ا و ر غیر واجبہ یعنی نفلی صدقات دونوں قسم کے مدات ہوتے ہیں ا و ر اکثر مدارس انہیں صحیح مصرف میں خرچ کرنے کا اہتمام بھی کرتے ہیں ا س لیے مدرسہ انتظامیہ کو اپنے سید ہونے کا بتلا کر نفلی صدقات سے مستفید ہونے کا اہتمام چاہیے۔
فی الدر: وحرم علیه الخروج الا لحاجة الانسان طبیعیة کبول وغائط وغسل لو احتلم ولا یمکنه الاغتسال فی المسجد. (۲/ ۴۴۴، ۴۴۵)
فی الشامیة: والحاصل ان الوجه یقتضی لزوم کل یوم شرع فیه عندهما. (۴۴۵)
واعلم ان الاصل فی الاشیاء کلها سوی الفروج الاباحة.... انما تثبت الحرمة بعارض نص مطلق ا و ر خبر مروی، فما لم یوجد شئ من الدلائل المحرمة فهی علی الاباحة. (مجمع الانهار بحواله فتاوٰی محمودیه ۱۸/ ۲۴۷)
فی المشکٰوة: عن عبد المطلب بن ربیعة ان هذه الصدقات انما هی او ساخ النا س وانها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد. (۱۶۱) واللہ اعلم بالصواب!