والد کے انتقال کے بعد والدہ حیات تھی اور ہم دو بھائی اور پانچ بہنیں والد کےانتقال کے وقت سب زندہ تھے، اس کے بعد والدہ کا انتقال ہوا، ورثاء مذکور بالا تھے، والدہ کے انتقال کے بعد ایک بہن کا انتقال ہوا، ورثاء میں اس وقت بہنوئی زندہ اور ان کے 11 بچے ہیں، چھ بیٹے ،پانچ بیٹیاں تھی،( بہن کے انتقال کے بعد ان کی ایک بیٹی انتقال کر گئی، شادی شدہ تھی، شوہر حیات ہے، بچہ نہیں ہوا ) والدہ کی وصیت کے مطابق 20 گز کا پلاٹ دونوں بھائیوں نے سب کی رضامندی سے 60/60 گز کی جگہ برابر سے تقسیم کر لی اور ایک بہن نے اس وقت حصہ کا مطالبہ کیا اور سب نے ان کو اس عمل سے روک دیا، جب زمین سب کی رضامندی سے میرے پاس آئی تو اس وقت میں نے اسے اپنا مکان سمجھ کر نئے سرے سے زمین کے اوپر تعمیرات کی، اس تعمیرات میں میری بیوی کا زیور اور بچوں کی محنت اور میری پوری جوانی لگ گئی، رہنمائی فرمائیں کہ زمین پر جو تعمیرات کیے ہیں ، سب میں سب کا حصہ ہے یا نہیں ؟اور جن بہنوں نے زبانی حصہ معاف کیا تھا، ان کا حصہ صرف زمین میں ہوگا یا میری تعمیرات میں بھی؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ کا مذکورمکان دو بیٹوں کے درمیان برابر تقسیم کرنے کی وصیت شرعاً درست نہیں تھی اوروارث کے متعلق وصیت شرعاً معتبر بھی نہیں، لہذا مذکور تقسیم بھی غیرمعتبر ہوگی اور مذکور پلاٹ تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا،( جیسا کہ آگے آرہا ہے)۔
جہاں تک بہنوں کا زبانی طور پر حصہ چھوڑنےکا تعلق ہے، تو شرعاً محض یہ کہنا کہ ’’ہمیں حصہ نہیں چاہئیے ‘‘ اس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں،جب تک وہ اپنے حصہ وراثت پرباقاعدہ قبضہ کرلینے کےبعدکسی دوسرے وارث کواپناحصہ ہبہ(گفٹ) کرکے اس کواپنے حصہ پرمالکانہ حقوق وتصرف کااختیارنہ دیدیں۔ اس لئے سائل کی بہنوں کی والدین کی وراثت سے زبانی دستبرداری شرعاً معتبر نہیں، بلکہ زمین میں اُن کا شرعی حق بدستور برقرار ہے۔
جہاں تک مذکورزمین پرسائل کی طرف سے کی گئی تعمیرات کا معاملہ ہے،چونکہ عمارت سائل نے سب ورثاء کی رضامندی سے اپنی رقم، اپنی بیوی کے زیور اوراپنی محنت سے بنائی ہے، اس لئے تعمیرات مکمل طور پر سائل کی ملکیت ہیں، ورثاء کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔چنانچہ مکان اور پلاٹ دونوں کی الگ الگ قیمت معلوم کر کےمجموعی رقم میں سے صرف پلاٹ کی قیمت مرحوم والدین کا ترکہ شمار ہوکر تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوگی ، جبکہ تعمیر کی رقم سائل لے سکتا ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والدین مرحومین مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل اننیس ہزار پانچ سو چوراسی(19584) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو چار ہزار تین سو باون (4352) حصے، چاروں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو دو ہزار ایک سو چھہتر(2176)، داماد کو پانچ سو چوالیس(544) حصے، چھ نواسےمیں سے ہر ایک کو ایک سو اٹھانوے (198)حصے، چار نواسی میں سے ہر ایک کو ننانوے(99) حصے، جبکہ نواسی کا شوہر کو اڑتالیس (48) حصے دیے جائیں۔
کمافی تكملة ردالمحتار علی الدرالمختار: وفی الارث جبري لا يسقط بالاسقاط الخ( 11/678)۔
وفی تنقیح الحامدیه: ( سئل ) فيما إذا بنى زيد قصرا بماله لنفسه في دار مشتركة بينه وبين إخوته بدون إذنهم فهل يكون البناء ملكا له ( الجواب ) : نعم وإذا بنى في الأرض المشتركة بغير إذن الشريك له أن ينقض بناءه ذكره في التتارخانية من متفرقات القسمة . ( سئل ) في دار مشتركة بين جماعة بنى فيها بعضهم بناء لأنفسهم بآلات هي لهم بدون إذن الباقين ويريد بقية الشركاء قسمة نصيبهم من الدار المذكورة وهي قابلة للقسمة فهل لهم ذلك وما حكم البناء ؟ ( الجواب ) : حيث كانت قابلة للقسمة وينتفع كل بنصيبه بعد القسمة فلبقية الشركاء ذلك ثم البناء حيث كان بدون إذنهم إن وقع في نصيب البانين بعد قسمة الدار فبها ونعمت والا هدم البناء الخ(2/157)۔