والد کا انتقال دو سال قبل اور والدہ کا انتقال نو ماہ قبل ہوا ہے۔ ورثاء میں دو بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ والد صاحب نے اپنی زندگی میں دونوں بیٹوں کے نام دو دو دکانیں منتقل کر دی تھیں۔ جس بہن کی شادی نہیں ہوئی، اس کے نکاح کے لیے زیور اور رقم علیحدہ سے محفوظ رکھی گئی تھی۔ اب بھائیوں کا کہنا ہے کہ تینوں بہنوں کو کل وراثت کا صرف 25 فیصد حصہ ملے گا، اور وہ کہتے ہیں کہ ایک بڑے عالم دین نے اس بات کا فتویٰ دیا ہے۔ مطلب یہ کہ دونوں بھائیوں کو 75 فیصد، اور تینوں بہنوں کو مجموعی طور پر 25 فیصد حصہ ملے گا۔ بہنوں کا مؤقف ہے کہ جو دکانیں والد نے بھائیوں کے نام کی تھیں، وہ درحقیقت اُن ہی (والد) کی ملکیت تھیں اور سب سے قیمتی جائیداد بھی وہی دکانیں ہیں، لہٰذا ان دکانوں میں بھی وراثت کے مطابق سب کا حصہ ہونا چاہیے۔والد صاحب ذاتی کاروبار کرتے تھے، ان کے پاس کوئی آبائی زمین یا جائیداد نہیں تھی۔ دکانیں اور مکان کرائے پر دے رکھے تھے، جن کی آمدنی سے گھر اور علاج کا خرچ پورا کرتے تھے۔لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ براہِ کرم ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں، کیونکہ بھائی ہماری بات ماننے کو تیار نہیں اور کہتے ہیں کہ اگر کسی عالم سے پوچھنا ہے تو پوچھ لو۔
واضح ہو کہ پراپرٹی اور جائیداد وغیرہ محض کاغذوں میں کسی کے نام کرنے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی، جب تک اسے اس چیز پر باضابطہ مالکانہ قبضہ نہ دیدیا جائے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے مرحوم والد نے اگر اپنی پراپرٹی (دکانیں )اپنے دونوں بیٹوں (سائلہ کے دونوں بھائیوں ) کے فقط نام کی ہو، انہیں ان پر باضابطہ مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو،بلکہ اپنی زندگی میں ان کے منافع سے خودمستفیدہوتے رہے ہوں، یعنی گھرکی ضروریات اورعلاج معالجہ کے اخراجات انہیں دوکانوں ا ورمکان سے پورے ہوتےہوں جیساکہ سوال میں بیان کیاگیاہےتو ایسی صورت میں سائلہ کےدونوں بھائی اس مکان اوردوکانوں کے مالک نہیں بنے بلکہ وہ بدستوران کے والدکی ملکیت ہے جو مرحوم کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوں گی،لہذاسائلہ کے بھائیوں پر لازم ہے کہ والد کاسارا ترکہ بشمول مکان ودوکانیں جلد از جلد تقسیم کر کے بہنوں کو ان کا حصۂ میراث دے دیں، بصورتِ دیگر سائلہ اور دیگر بہنیں قانونی چارہ جوئی کی بھی مجازہیں ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ مال و جائیدا د ،سونا، چاندی ،زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،وہ سب مرحوم کا ترکہ کا ہے ،جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں، اس کےبعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سات (7) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو دو دو (2) حصے ، اور مرحوم کی ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے، جیساکہ ذیل کے نقشے سے بھی واضح ہورہا ہے، مزید سہولت کےلئے فیصدی حصے بھی لکھ دئیے گئے ہیں،ملاحظہ ہو۔
مسئلہ 7
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی
2 2 1 1 1
28.571% 28.571% 14.285% 14.285% 14.285%
کما فی صحیح مسلم : عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبی ﷺ : یقول «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»۔ (باب تحریم الظلم وغصب الارض وغیرھا ، ج: 2 ، ص: 868 ، ط: البشری)ـ
وفی سنن ابن ماجہ : و عن انس قال : قال رسول اللہ ﷺ : من فر من میراث وارثه قطع اللہ میراثه من الجنۃ یوم القیامۃ (باب الحیف فی الوصیۃ ،ص: 549 ، ط: البشری)۔
وفی الدر المختار: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل ان الموهوب ان مشغولا بملك الواهب منع تمامها، و ان شاغلا لا الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: ایچ-ایم-سعید)ـ۔
وفی رد المحتار: تحت: (قوله بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت و لو كانت فی مرض الموت للاجنبی کما سبق فى كتاب الوقف کذا فی الهامش (قوله بالقبض الکامل) و كل الموهوب له رجلين بقبض الدار فقبضاها جاز خانية الخ (كتاب الهبة، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: ایچ-ایم-سعید)۔
وفی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له الا بالقبض هو المختار، هكذا فی الفصول العمادية الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 4 ، ص: 378 ، ط: ماجدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2