احکام وراثت

بیٹوں کے نام کی ہوئی دکانوں کی ملکیت اور ترکہ کی تقسیم

فتوی نمبر :
89428
| تاریخ :
2025-12-01
معاملات / ترکات / احکام وراثت

بیٹوں کے نام کی ہوئی دکانوں کی ملکیت اور ترکہ کی تقسیم

والد کا انتقال دو سال قبل اور والدہ کا انتقال نو ماہ قبل ہوا ہے۔ ورثاء میں دو بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ والد صاحب نے اپنی زندگی میں دونوں بیٹوں کے نام دو دو دکانیں منتقل کر دی تھیں۔ جس بہن کی شادی نہیں ہوئی، اس کے نکاح کے لیے زیور اور رقم علیحدہ سے محفوظ رکھی گئی تھی۔ اب بھائیوں کا کہنا ہے کہ تینوں بہنوں کو کل وراثت کا صرف 25 فیصد حصہ ملے گا، اور وہ کہتے ہیں کہ ایک بڑے عالم دین نے اس بات کا فتویٰ دیا ہے۔ مطلب یہ کہ دونوں بھائیوں کو 75 فیصد، اور تینوں بہنوں کو مجموعی طور پر 25 فیصد حصہ ملے گا۔ بہنوں کا مؤقف ہے کہ جو دکانیں والد نے بھائیوں کے نام کی تھیں، وہ درحقیقت اُن ہی (والد) کی ملکیت تھیں اور سب سے قیمتی جائیداد بھی وہی دکانیں ہیں، لہٰذا ان دکانوں میں بھی وراثت کے مطابق سب کا حصہ ہونا چاہیے۔والد صاحب ذاتی کاروبار کرتے تھے، ان کے پاس کوئی آبائی زمین یا جائیداد نہیں تھی۔ دکانیں اور مکان کرائے پر دے رکھے تھے، جن کی آمدنی سے گھر اور علاج کا خرچ پورا کرتے تھے۔لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ براہِ کرم ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں، کیونکہ بھائی ہماری بات ماننے کو تیار نہیں اور کہتے ہیں کہ اگر کسی عالم سے پوچھنا ہے تو پوچھ لو۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ پراپرٹی اور جائیداد وغیرہ محض کاغذوں میں کسی کے نام کرنے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی، جب تک اسے اس چیز پر باضابطہ مالکانہ قبضہ نہ دیدیا جائے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے مرحوم والد نے اگر اپنی پراپرٹی (دکانیں )اپنے دونوں بیٹوں (سائلہ کے دونوں بھائیوں ) کے فقط نام کی ہو، انہیں ان پر باضابطہ مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو،بلکہ اپنی زندگی میں ان کے منافع سے خودمستفیدہوتے رہے ہوں، یعنی گھرکی ضروریات اورعلاج معالجہ کے اخراجات انہیں دوکانوں ا ورمکان سے پورے ہوتےہوں جیساکہ سوال میں بیان کیاگیاہےتو ایسی صورت میں سائلہ کےدونوں بھائی اس مکان اوردوکانوں کے مالک نہیں بنے بلکہ وہ بدستوران کے والدکی ملکیت ہے جو مرحوم کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوں گی،لہذاسائلہ کے بھائیوں پر لازم ہے کہ والد کاسارا ترکہ بشمول مکان ودوکانیں جلد از جلد تقسیم کر کے بہنوں کو ان کا حصۂ میراث دے دیں، بصورتِ دیگر سائلہ اور دیگر بہنیں قانونی چارہ جوئی کی بھی مجازہیں ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ مال و جائیدا د ،سونا، چاندی ،زیورات نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،وہ سب مرحوم کا ترکہ کا ہے ،جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں، اس کےبعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سات (7) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو دو دو (2) حصے ، اور مرحوم کی ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے، جیساکہ ذیل کے نقشے سے بھی واضح ہورہا ہے، مزید سہولت کےلئے فیصدی حصے بھی لکھ دئیے گئے ہیں،ملاحظہ ہو۔



مسئلہ 7
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی
2 2 1 1 1
28.571% 28.571% 14.285% 14.285% 14.285%

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح مسلم : عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبی ﷺ : یقول «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»۔ (باب تحریم الظلم وغصب الارض وغیرھا ، ج: 2 ، ص: 868 ، ط: البشری)ـ
وفی سنن ابن ماجہ : و عن انس قال : قال رسول اللہ ﷺ : من فر من میراث وارثه قطع اللہ میراثه من الجنۃ یوم القیامۃ (باب الحیف فی الوصیۃ ،ص: 549 ، ط: البشری)۔
وفی الدر المختار: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل ان الموهوب ان مشغولا بملك الواهب منع تمامها، و ان شاغلا لا الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: ایچ-ایم-سعید)ـ۔
وفی رد المحتار: تحت: (قوله بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت و لو كانت فی مرض الموت للاجنبی کما سبق فى كتاب الوقف کذا فی الهامش (قوله بالقبض الکامل) و كل الموهوب له رجلين بقبض الدار فقبضاها جاز خانية الخ (كتاب الهبة، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: ایچ-ایم-سعید)۔
وفی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له الا بالقبض هو المختار، هكذا فی الفصول العمادية الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 4 ، ص: 378 ، ط: ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89428کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =ایک بیوہ تین بیٹے دو بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات