السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ! میں آپ کو یہ میسج کر رہا ہوں مجھے آپ سے ہی امید ہے کہ آپ ہی میرا مسئلہ حل کر سکتے ہیں کیا آپ مجھے کوئی وظیفہ بتا سکتے ہیں جس سے میری ہر حاجت، ضرورت، اور دل کی ہر خواہش ، دلی مراد پوری ہو جائے؟ میرے تمام مسائل حل ہو جائیں۔میرے تمام مقاصد پورے ہو جائیں ـ میرا جو کام رکا ہوا ہے، میرا جو بھی کام اٹکا ہوا ہے وہ بھی پورا ہو جائے ۔میں اللہ کا خاص بندہ بننا چاہتا ہوں اللہ کا ولی بننا چاہتا ہوں اللہ کا پسندیدہ محبوب بننا چاہتا ہوں۔
واضح ہو کہ ہر مسلمان کا عقیدہ اور ایمان ہے کہ اللہ رب العزت اس دنیا میں ہر شخص کو اس کی بنیادی ضروریات و حاجات پوری کرتا ہے، البتہ دنیا میں ہر شخص کی تمام خواہشات کا پورا ہونا یقینی نہیں، بلکہ یہ صرف جنت میں ہی ممکن ہو سکے گا، اس لیے ہر مسلمان کو اس دنیا کو ایک آزمائش سمجھ کر اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارنی چاہئےاور اس سلسلہ میں وقتی مشکلات اور پریشانیوں پر صبر کر کے اللہ رب العزت سے اس کے بدلے اجر و ثواب کی امید رکھنی چاہیے، جبکہ وقتی مشکلات کے حل اور پریشانیوں سے نجات کے لیےشریعتِ مطہرہ نے ہمیں ایسے مسنون اعمال بتلائے ہیں جن کے کرنے سے نہ صرف مشکلات آسان ہوتی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا قرب، مدد اور خصوصی فضل حاصل ہوتا ہے،قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ سلف سے وہ واضح اعمال درج کیے جاتے ہیں جن کے کرنے سے حاجات پوری ہوتی ہیں اور دل کی دعائیں قبول ہوتی ہیں:1) استغفار: جو شخص استغفار پر قائم رہے، اللہ ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بناتا ہے، ہر غم سے نجات دیتا ہے، اور بے گمان جگہ سے رزق عطا کرتا ہے۔2)درود شریف : درود شریف کثرت سے پڑھنا حاجات کی قبولیت کا سبب ہے۔3)دعا : دعا اللہ کے فضل کو متوجہ کرتی ہے اور حاجات پوری ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔4)تہجد : اللہ کے ولی اور محبوب بننے کا راز۔5)تقویٰ اختیار کرنا: ہر مشکل کا حل اور رزق کی چابی۔اگر کوئی شخص مذکور اؑمال پر عمل کر لےتو قرآن و حدیث کی روشنی میں اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات آسان کرتا ہے، رزق کھولتا ہے، دل کی مراد پوری کرتا ہے اور اپنے خصوصی قرب سے نوازتا ہے، البتہ اگر ان اذکار سے بھی کسی شخص کی خواہشات پوری نہ ہو، تو وہ اپنی تقدیراللہ کی حکمت کے ساتھ قبول کرتے ہوئے دعا کا اہتمام کرتے رہے۔
کما قال اللہ تعالی: (ومن يتق الله يجعل له مخرجًا، ويرزقه من حيث لا يحتسب)۔ (الطلاق: 2–3)
وفی سنن ابی داود: (من لزم الاستغفار جعل الله له من كل ضيقٍ مخرجًا، ومن كل هم فرجًا، ورزقه من حيث لا يحتسب)۔ (رقم الحدیث: 1518)۔
وفی جامع الترمذی: (كل دعاءٍ محجوبٌ حتى يصلى على النبي ﷺ)۔ (رقم الحدیث: 486)۔
وفی سنن ابن ماجہ: (لا يرد القدر إلا الدعاء)۔ (رقم الحدیث: 90)۔
وفی صحیح البخاری: (وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه)۔ (رقم الحدیث: 6502)۔
وفی صحیح البخاری: (ينزل ربنا تبارك وتعالى كل ليلةٍ إلى السماء الدنيا… فيقول: من يدعوني فأستجيب له؟)۔ (رقم الحدیث: 1145)۔