السلام علیکم
حاجی غلام سرور کے پانچ (5) بیٹے، دو (2) بیٹیاں اور ایک بیوی ہے،والد صاحب سعید آباد نمبر 1، گلی نمبر 12، پجگی روڈ پشاور میں دو گھروں کے مالک تھے، ایک مکان دس (10) مرلے کا ہے جس میں والد صاحب رہائش پذیر تھے، اس میں سے آٹھ (8) مرلے چار بیٹوں کے نام کر دیے گئے تھے، نیز نکاح نامے میں گھر کے برابر حصے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، دوسرا مکان سب سے چھوٹے بیٹے، محمد کامران، کے نام کر دیا گیا ہے، اب والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے، 10 مرلے والے گھر میں سے 8 مرلے چار بیٹوں کے نام منتقل کیے جا چکے ہیں اور نکاح نامے میں ان کے حقِ حصہ داری کا اندراج بھی موجود ہے، سوال یہ ہے کہ باقی بچے ہوئے 2 مرلے میں پانچوں بیٹوں کا حصہ ہو گا یا صرف دو بیٹیوں اور بیوی کی وراثت ثابت ہو گی؟ شریعت کے مطابق فتویٰ صادر فرمائیں۔
واضح ہو کہ ہبہ تام ہونے کے لئے باقاعدہ مالکانہ حقوق و تصرف کے اختیار کے ساتھ قبضہ دینا بھی ضروری ہوتا ہے، فقط نام کرنا یا نکاح نامہ میں حصہ داری کا اندراج کافی نہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے اپنی زندگی میں مذکور مکان کے آٹھ مرلے چار بیٹوں اور دوسرا مکان اپنے چھوٹے بیٹے کے فقط نام کر دیا ہو، باقاعدہ مالکانہ حقوق و تصرفات کے اختیار کے ساتھ قبضہ نہ دیا ہو، (اگرچہ نکاح نامہ میں برابر حصوں کا ذکر کر دیا گیا ہو) تو شرعاً ہبہ تام نہیں ہوا، لہٰذا مذکورہ دونوں مکانات بھی دیگر ترکے کی طرح تمام ورثاء میں حسب حصصِ شرعیہ تقسیم کئے جائیں گے ۔
کما فی الدر المحتار (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید)۔
و فی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالایجاب والقبول وتتم بالقبض، صریح ھذہ المادۃ أن القبول رکن أیضاً کالایجاب (إلی قولہ) وفی الدرر شرح الغرر قال الامام حمید الدین: رکن الھبۃ الایجاب فی حق الواھب، لأنہ تبرع فیتم من جھۃ المتبرع، أما فی حق الموھوب لہ فلا یتم إلا بالقبول، ثم لا ینفذ ملکہ فیہ إلا بالقبض الخ(الفصل الاول فی بیان المسائل المتعلقۃ برکن الھبۃ وقبضھا،المادۃ 837، ج3، ص 344، 345، ط: اسلامیۃ)۔
في ملتقى الأبحر: هي تمليك عين بلا عوض وتصح بإيجاب وقبول، وتتم بالقبض الكامل اھ (ص: 489)۔