محترم! السلام وعلیکم
فقہی رائے درکار ہے ،ایک شخص کی پہلی بیوی سے دو بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں ، وہ شخص پہلی بیوی کی وفات کے بعد دوسری شادی کرتا ہے اس سے تین بیٹیاں ہوتی ہیں کل اولاد کی اسکی زندگی میں شادیاں ہوگئیں ،وفات سے پہلے جائیداد تقسیم کردی ،گھر دوسرےتمام وارثان کے سامنے بیوی کے نام کر دیا، بیوی نے خاوند کی وفات کے بعد وہ گھر اپنی تینوں حقیقی بیٹیوں کے نام کر دیا ۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا دیگر دو بیٹیوں کا اسمیں حق نہیں بنتا ؟دوسرا یہ کہ اس گھر سے متعلق اگر مرحوم والد نے کچھ وصیت کی ہو تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہو گی ؟
نوٹ: سائل نے فون پر وضاحت کی کہ یہ وصیت کی تھی کہ دوسری بیوی جب تک حیات ہے مکان اسی کی ملکیت رہے گی،ان کی وفات کے بعد ورثہ میں تقسیم ہوگا۔
واضح ہو کہ فقط زبانی کوئی چیز کسی کے نام کردینے سے شرعاً وہ اس کی ملک نہیں بنتی، جب تک کہ اسے اس چیز پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ نہ دے دیا جائے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر مرحوم نے مذکور گھر اپنی بیوی کے فقط نام کیا ہو،اس کو اس مکان پر باضابطہ مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو (جیسا کہ سوال سے بھی بظاہر یہی معلوم ہورہا ہے) تو ایسی صورت میں فقط نام کردینے سے بیوی شرعاً مذکور مکان کی مالک نہیں بنی تھی،بلکہ وہ گھر شوہر مرحوم کی حیات تک بدستور اس کی ملکیت رہا ، اور اب ان کے انتقال کرجانے کی صورت میں ان کا ترکہ شمار ہوکر اس کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ، لہذا فقط کاغذات میں نام ہونے کی وجہ سے بیوہ کا یہ مکان اپنی مرضی سے چند بیٹیوں کے نام کر کے بقیہ کو محروم کرنا جائز نہیں اور نہ ہی شرعاً یہ تصرف معتبر ہے ، اس لئے مذکور بیوہ پر لازم ہے کہ اپنے اس غیر شرعی تقسیم کو ختم کر کے یہ مکان مرحوم شوہر کے تمام ورثاء میں اصول میراث کے مطابق تقسیم کر دے تاکہ مو اخذہ دنیاوی و اخراوی سے سبکدوشی ہو سکے۔
جبکہ مرحوم شوہر کی مذکور وصیت " دوسری بیوی جب تک حیات ہے مکان اسی کی ملکیت رہے گی،ان کی وفات کے بعد ورثہ میں تقسیم ہوگا" کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں اور نہ ورثاء پر اس وصیت کے مطابق عمل کرنا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها الخ (کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: 690، ط: سعید)۔
و فیھا ایضاً: (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر الخ ( کتاب الوصایا، ج: 6، ص: 655، ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: و منھا أن یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 4، ص: 374، ط: ماجدیۃ )۔
و فیھا ایضا: (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) الخ ( کتاب الوصایا، ج: 6، ص: 90، ط: ماجدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2