السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! میں آپ کو یہ میسج کر رہا ہوں، مجھے آپ سے ہی امید ہے کہ آپ ہی میرا مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔ کیا آپ مجھے کوئی وظیفہ بتا سکتے ہیں ؟جس سے میری ہر حاجت، ضرورت، اور دل کی ہر خواہش ، دلی مراد پوری ہو جائے۔ میرے تمام مسائل حل ہو جائیں۔میرے تمام مقاصد پورے ہو جائیں ، میرا جو کام رکا ہوا ہے، میرا جو بھی کام اٹکا ہوا ہے وہ بھی پورا ہو جائے ۔میں اللہ کا خاص بندہ بننا چاہتا ہوں، اللہ کا ولی بننا چاہتا ہوں، اللہ کا پسندیدہ محبوب بننا چاہتا ہوں ۔ میں آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا
سائل کو چاہیئے کہ اپنی جائزحاجات اور مرادوں کے حصول کےلئے اللہ کی طرف رجوع کرےاور پانچ وقت کی نمازوں اور دیگر فرائض کی پابندی کرے۔ گناہوں سے بچے اور اس کے ساتھ تلاوتِ کلام پاک اور کثرت سے توبہ استغفار کرے۔جبکہ اپنی جائزحاجات پوری ہونے کےلئے دن میں کسی وقت اچھی طرح وضو کرکےدو رکعت صلاۃ الحاجۃ پڑھے اوراس کے بعد الحمد شریف پڑھ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجیں اور پھر ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگیں۔ لااِلٰـهَ اِلَّا اللّٰهُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ، سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، اَسْئَلُكَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْعِصْمَةَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ، وَالْغَنِیْمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَّالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، لَا تَدَعْ لِيْ ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَه وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَه وَلَا حَاجَةً هيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَیْتَھا یَا أَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ(سنن ترمذی، 2/344)۔ یا صلاۃ الحاجۃ پڑھ کر ایک پرچی پر یہ الفاظ لکھ کر بسم الله الرحمن الرحيم من العبد الذليل إلى ربه الجليل، رب (أني مسني الضر وأنت أرحم الراحمين، پھر اس پرچی کو کسی بہتے ہوئے پانی میں ڈال دے اور اس کے بعد انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ دعا مانگے۔ اللھم بمحمد و آله الطيبينَ الطَاهِرِينَ وَصَحْبِهِ المُرتضِينَ اقْضِ حَاجَتِي يَا أكرم الاکرمین۔ اور ساتھ میں اپنی حاجت کا بھی تصور کرے جس کےلئے یہ عمل کیا ہے۔ ان شاء اللہ جائز حاجت پوری ہوگی اور مقصد میں کامیابی ہوگی۔(الزیادۃ و الاحسان فی علوم القرآن، 2/351)۔
کما فی سنن الترمذی:عن عبد الله بن أبي أوفى، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:(من كانت له إلى الله حاجة، أو إلى أحد من بني آدم فليتوضأ وليحسن الوضوء، ثم ليصل ركعتين، ثم ليثن على الله، وليصل على النبي صلى الله عليه وسلم، ثم ليقل:لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله رب العرش العظيم، الحمد لله رب العالمين، أسألك موجبات رحمتك، وعزائم مغفرتك، والغنيمة من كل بر، والسلامة من كل إثم، لا تدع لي ذنبا إلا غفرته، ولا هما إلا فرجته، ولا حاجة هي لك رضًا إلا قضيتھا يا أرحم الراحمين)۔هذا حديث غريب وفي إسناده مقال۔ (باب ما جاء فی صلاۃ الحاجۃ،ج 2، ص 344، ط:شاکر)۔
وفی الزیادہ والإحسان فی علوم القرآن: وعن الإمام جعفر الصادق رضي الله عنه أنه قال: من كانت له حاجة مھمة، فليكتب رقعة فيھا: بسم الله الرحمن الرحيم من العبد الذليل إلى ربه الجليل، رب (أني مسني الضر وأنت أرحم الراحمين) (الأنبياء: 83)، ثم يرمي بالرقعة في ماء جاري ويقول: اللھم بمحمد وآله الطيبين، وصحبه المرتضين، اقض حاجتي يا أكرم الأكرمين. ويذكر حاجته، فإنھا تقضى إن شاء الله تعالى إلخ۔ (النوع الخامس و الأربعون علم خواص القرآن، ج 2، ص 351۔352، ط: مرکز البحوث و الدراسات)۔