عرض یہ ہے کہ میرے پاس کچھ سیونگ (رقم) ہے اور میں اس سیونگ کوبطور ثواب کسی ایسی جگہ خرچ کرنا چاہتی ہوں، جس سے مجھے اور میرے مرحوم والد کو زیادہ اجر ملے، براہ مہربانی مجھے بتائیں میں ان پیسوں کو اللہ کی راہ میں کہا خرچ کروں جس سے میرا اللہ راضی ہو اور مجھے اور میرے والد کو اس کااجر ملے؟
نوٹ: سیونگ ہماری اضافی رقم ہے، کچھ والد صاحب کی پراپرٹی فروخت کرکے ہمارے پاس آئی ہے، بینک وغیرہ کی رقم نہیں۔
سائلہ کی جو ذاتی سیونگ کی رقم ہے اس میں وہ خود مختار ہے وہ جس طرح اس میں تصرف کرنا چاہے کر سکتی ہے، جبکہ بہتر یہ ہے کہ اسے صدقہ جاریہ (مثلاً مسجد ومدرسہ کی تعمیر طلبہ کے لیے کتب کی خریداری ، جہاں ضرورت ہوں وہاں کنویں کی کھدائی وغیرہ) میں صرف کی جائے ، البتہ سائلہ کے مرحوم والد کے ترکہ کی پراپرٹی کو فروخت کرنے کےبعد جو رقم حاصل ہوئی ہے، اسمیں سب ورثاء کا حق ہے، کسی ایک وارث کےلیے دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر اس رقم کو صدقہ کرنا شرعاً درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے،البتہ ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ اپنی مرضی سے اس رقم کو درج بالا کارِ خیر میں سے کسی میں لگائیں اور اس کا ثواب اپنے مرحوم والد کو پہنچانے کی نیت کریں توشرعاً بھی درست ہوگا۔
کما فی سنن ابن ماجہ: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن مما يلحق المؤمن من عمله وحسناته بعد موته علما علمه ونشره، وولدا صالحا تركه، ومصحفا ورثه، أو مسجدا بناه، أو بيتا لابن السبيل بناه، أو نهرا أجراه، أو صدقة أخرجها من ماله في صحته وحياته، يلحقه من بعد موته» (1/88 رقم الحدیث 242)۔
و فی الھندیة: التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. الخ (6/447)۔
و فی الدرالمختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه. الخ (6/200)۔