السلام علیکم
میرے مرحوم والد نے تین شادی کی تھیں ،پہلے شادی سے مجھ سمیت 6 بچے ہیں اور اللہ کے کرم سے سب حیات ہیں،دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں تھی اور ان کا انتقال ہو چکا ہے، تیسری بیوی سے میرے مرحوم والد کی ایک بیٹی پیدا ہوئی ، اور اب تقریباً 13 سال کی ہےاور اللہ کی کرم سے حیات ہے، میرے والد کی تیسری بیوی کے پہلے شوہر سے 3 بچے ہیں جن میں 2 بیٹے اور ایک بیٹی ہے، جو کہ والد کے ساتھ رہ رہے تھے ،اور والد صاحب کی انتقال کے بعد بھی والد صاحب کی گھر میں رہتے تھے جو کہ ہم دیگر 6 وارثان کا مشترکہ فیصلہ تھا کیونکہ تیسری بیوی کی طبیعت اکثر خراب رہتی ہے بلڈ پریشر کے مسئلہ کی وجہ سے،جلدی ہی میرے مرحوم والد کی وراثت تقسیم ہونے والی ہے جو تمام 8 ورثاء میں تقسیم ہوگی جن میں والد صاحب کی پہلی بیوی سے 6 بچے ، تیسری بیوی اور ان سے ایک بیٹی شامل ہے،اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری چوٹی بہن جو تیسری بیوی سے ہے اس کا حصہ ہم کورٹ کی سپروائزن اور انڈر سبلنگ گارڈنشپ سرٹیفیکیٹ(under sibling guardianship certificate) کے ساتھ اس بچی کی تمام معاملات مثلاً اس کی تعلیم،اسکی دیگر ضروریات،اور سب سے بڑی فائنانشل سیفٹی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے،اس بچی یا چھوٹی بچی کا حصہ کورٹ کے آرڈر کے مطابق بچی کے 21 سال تک کی عمر تک میں اپنے کسٹڈی میں رکھنا چاہتا ہوں،بشمول دیگر وارث کی رضامندی سے،اور میں پابندی سے اس بچی کے جو اخراجات ہیں انڈر کورٹ سپر وائزر کرتا رہوں گا،ان شاء اللہ، یہ اقدام کرنے کا مقصد صرف اس بچی فائنانشل ایشوز کی سیفٹی کےلئے ہے کیونکہ اس کی والدہ ( تیسری بیوی ) کی طبیعت اکثر و بیشتر ناساز رہتی ہے،اور اللہ نہ کرے ان کے ساتھ معاملہ ہو اور اس بچی فائنانشل کسی اور کے ہاتھ میں جس کی وجہ سے اس بچی کو ممکنہ نقصان اٹھانا نہ پڑے ، اس لئے آپ راہنمائی در کار ہے، شکریہ (نوٹ) دوسری بیوی کا انتقال والد صاحب کی حیاتی میں ہوگیا تھا ، سن 2009 میں اور میرے والد کا انتقال 2022 میں ہوا ہے۔
نوٹ: سائل سے اس جملہ" مجھ سمیت چھ بچے ہیں"کی وضاحت طلب کرنے پر سائل نے کہا کہ چھ بچوں سے مراد دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔
صورت ِ مسئولہ میں سائل کا اپنی باپ شریک بہن کے حصہ کو بغرض حفاظت عدالت کے ضابطہ (under sibling guardianship certificate ) کے مطابق اپنے پاس رکھنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، البتہ وہ حصہ سائل کے پاس بطور امانت رہے گا ، اس لئے سائل کو پوری دیانت داری اور ایمانداری کے ساتھ اس میں تصرف کرنا ہوگا تاکہ اس امانت میں خیانت کا ارتکاب نہ ہو۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد سونا ،چاندی ، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلوں سازو سامان چھوڑا ہو، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حقِ مہر واجب الادا ہو اور اس نے معاف بھی نہ کیا ہو ، تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی ( 1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بہتر (72) حصے بنائے جائیں، جن میں سے بیوہ کو نو (9) حصے ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے اور ہر بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2