مفتی صاحب! السلام علیکم!
میں شادی شدہ ہوں،میری ایک بچی ہے، جس کی عمر 2.5 سال ہے، میں ایف بی ایریا کراچی میں رہتا ہوں، میں اپنے مسئلے کا ایک فتوی لینا چاہتا ہوں۔
میرے بچے کو شدید خاندانی بیماری ہے، جسے ریڑھ کی ہڈیوں میں پٹھوں کے اٹرو في کہا جاتا ہے۔ (Spinal Muscular Atrophy -SMA)
یہ ایک جینیاتی عارضہ ہے ،جو ریڑھ کی ہڈی کے اعصاب کو متاثر کرتا ہے ،ایس ایم اے کی وجہ سے، یہ پٹھوں (چھوٹے ہوجاتے ہیں) اور بہت کمزور ہو جاتے ہیں، SMA ایس ایم اے کی تین قسمیں ہیں،اقسام پر انحصار کرتے ہوئے معذوری اور موت کا سبب بن سکتا ہے، اس وقت دنیا میں SMA کا کوئی علاج دستیاب نہیں ہے، ڈاکٹر نے کہا کہ چار میں سے ایک (25) فیصد کا امکان ہے کہ دوسرا بچہ بھی اسی بیماری میں متاثر ہو جائے، حمل کے ایک مہینے کے دوران خون کی جانچ پڑتال آپ کو بتا سکتی ہے کہ آیا آپ کو ایس ایم اے سے دوسرا بچہ پیدا ہونے کا خطرہ ہے ؟اس کے علاوه ہم دو میں سے ایک آپشن منتخب کرسکتے ہیں۔
۱۔( حامل نہیں ہونا)/(اسقاط حمل)
۲۔ )Continue Pregnancyحمل پر لے جانا)
اس مخصوص مسئلے پر اسلامی قواعد و ضوابط کے مطابق ہم اسقاط حمل ( Abortion ) کر سکتے ہیں، کوئی گنجاش ہے؟
مذکور عارض کی وجہ سے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو بالکلیہ طور پر ختم کرنا جائز نہیں، البتہ سائل اور اس کی بیوی کو اگر یہ علم ہو جائے کہ اسقاط نہ کرانے کی صورت میں بیوی یا بچے کی جان کا خطرہ ہے ،یا پیدا ہونے والے بچے کی صحت کا اندیشہ ہو، اور کوئی ماہر مسلمان ڈاکٹر اپنی طبی مہارت اور دیانتداری کی بنیاد پر اسقاطِ حمل کو ہی ضروری سمجھے تو چار ماہ سے پہلے بطورِ علاج اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے، ورنہ نہیں۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح(إلی قوله) قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. (3/ 176)۔
و في الدر المختار : ويكره أن تسقى لإسقاط حملها ... وجاز لعذر حيث لا يتصور (6/ 429)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية اھ (6/ 429)۔
وفيه ايضا: تحت (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية اھ (6/ 429)۔