شاہ میر خان کی پراپرٹی 65کروڑ کی ہے اور شاہ میر خان کی اولاد میں صرف بیٹیاں ہیں، باقی پراپرٹی تو شاہ میر خان کے بھائیوں اور اس کی بیوی بیٹیوں میں تقسیم ہوگی ،پراگر شاہ میر خان اپنی زندگی میں کوئی گھر یا پلاٹ وغیرہ اپنی بیوی کے نام پر کر گیا ہو اوریجنل کاغذ بنوا کے دیکر گیا ہو تو کیا وہ پراپرٹی بھی شاہ میر خان کے بھائیوں میں تقسیم ہو سکتی ہے یا اس پر بیوہ کے علاوہ کسی کا کوئی حق نہیں ہے؟
واضح ہوکہ کوئی زمین ، گھر یا پلاٹ وغیرہ کسی کے فقط نام کرنے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی، جب تک باقاعدہ مالکانہ حقوق و تصرف کے ساتھ اسے وہ مکان وغیرہ حوالہ نہ کیا جائے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم شاہ میر نے اگر کوئی گھر یا پلاٹ وغیرہ اپنی زندگی میں باقاعدہ مالکانہ قبضہ اور تصرف کے ساتھ اپنی بیوی کو دیا ہو،تو اب مرحوم کی وفات کے بعد شرعاً بیوہ ہی اس کی مالک ہو گی،کسی اور کو اس میں کوئی حق نہیں اور نہ ہی اس میں میراث کے احکامات جاری ہوں گے۔
فی الدر المختار : ( و ) حکمھا ( انھا لا تبطل بالشروط الفاسدۃ ) ( الی قولہ ) بخلاف جعلتہ باسمک فانہ لیس بھبۃ الخ
و فی الشامیۃ تحت : ( قوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة."الخ کتاب الھبۃ، ج 5 ، ص 689، ط : سعید)۔
و فی الدر المختار: قوله ( وجعلته لك ) لأن اللام للتمليك ولهذا لو قال هذه الأمة لك كان هبة (الی قولہ)قيد بقوله لك لأنه لو قال جعلته باسمك لا يكون هبة ولهذا قال في الخلاصة لو غرس لابنه كرما إن قال جعلته لابني تكون هبة وإن قال باسم ابني لا تكون هبة الخ(کتاب الہبۃ،ج 7،ص 285،ط:دار المعرفۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2