بخدمتِ جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم شرعی فتویٰ کا طلبگار ( ترکے کی ادائیگی کا مسئلہ )
مفتی صاحب ! ہم پانچ بہن اور چار بھائی تھے، میری والدہ کا انتقال 2025/ 01/ 10 کو ہو گیا ، میری والدہ نے وراثت میں ایک (1 ) گھر چھوڑا ہے جو کہ میری والدہ کے نام لیز تھا ، تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
ہم نو بہن بھائیوں میں سب سے بڑے بھائی کا انتقال 2015 میں ہو گیا تھا، میری والدہ کا انتقال 2025/01/10 کو ہوا ہے، ابھی ہم تین بھائی اور پانچ بہن حیات ہیں، میری ایک بہن غیر شادی شدہ ہے ، جس کی عمر تقریباً 43 سال ہے، وہ شادی نہیں کرنا چاہتی ہے، اس بہن کی کفالت کے بارے میں شریعت کا کیا تقاضا ہے؟ ( کیا حکم ہے شریعت کا ؟ )
مفتی صاحب! براہ مہربانی شرعی فتویٰ واضح طور پر جاننے کا خواہش مند ہوں، تاکہ شرعی تقاضے کو پورا کر سکوں ۔ جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ والدین کی زندگی میں جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال ہو جائے تو اس کا یا اس کی اولاد کا مرحوم کے قریبی ورثاء کی موجودگی میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بڑے بھائی یا اس کی اولاد کا سائل کی والدہ کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں، البتہ عاقل بالغ ورثاء اپنی رضامندی اور خوش دلی کے ساتھ انہیں بھی مشترکہ ترکہ میں سے یا تقسیم کے بعد اپنے حصوں میں سے کچھ دینا چاہیں تو انہیں اس کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
جبکہ والدین کے انتقال کے بعد غیر شادی شدہ بہن کے مالی اخراجات اس کے اپنے ذاتی مال ( میراث وغیرہ )سے ہی اد ا کیے جائیں گے، تاہم اگر اس کی ملکیت میں کچھ نہ ہو تواس کے اخراجات بھائیوں پر لازم ہوں گے۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کی مرحومہ والدہ کی وفات کے بعد انکا ترکہ ان کےموجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیرمنقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی ، زیورات ، نقدی رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کر نے کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الأدا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3 /1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل گیارہ (11) حصے بنائے جائیں، ، جن میں ہر ایک بیٹے کو دو (2) حصے ، جبکہ بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک ( 1 ) حصہ دیا جائے،
کما فی الدرالمختار: هی علم بأصول من فقه و حساب تعرف حق كل من التركة، الخ
و فی ردالمحتار: تحت ( قولہ: هی علم بأصول إلخ ) أی قواعد و ضوابط ( إلی قولہ ) و شروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة، و وجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل، الخ ( كتاب الفرائض، ج 6، ص 757، ط: ایچ ایم سعید )-
کما فی الدر المختار: ( و ) تجب أيضا ( لكل ذی رحم محرم صغير أو أنثى ) مطلقا ( و لو ) كانت الأنثى ( بالغة ) صحيحة ( أو ) كان الذكر ( بالغا ) لكن ( عاجزا ) عن الكسب، الخ ( کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج 3، ص 627، ایچ ایم سعید )-
و فی التاتارخانیۃ: و إذا کان الأب قد مات و ترک اموالا و أولاداً صغاراً، کانت نفقۃ الأولاد من أنصبائھم، و کذا کل من یکون وارثاً فنفقتہ فی نصیبہ، الخ ( کتاب النفقات، الفصل الثالث فی نفقۃ ذوی الارحام، ج 5، ص 422، ط: مکتبۃ رشیدیۃ )-
و فیھا ایضاً: و تجب نفقۃ الأناث إن کانت من ذوی الارحام و إن کنّ صحیحات البدن إذا کان بھنّ حاجۃ إلی النفقۃ، الخ ( کتاب النفقات، الفصل الثالث فی نفقۃ ذوی الارحام، ج 5، ص 434، ط: مکتبۃ رشیدیۃ )-
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0