مباحات

زیرِ ناف بالوں کے کاٹنے کی مدت اور جسم کے دیگر بال کاٹنا

فتوی نمبر :
8050
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

زیرِ ناف بالوں کے کاٹنے کی مدت اور جسم کے دیگر بال کاٹنا

السلام علیکم! جناب معلوم یہ کرناہے کہ مرد کتنے دن بعد زیرِ ناف بال صاف کرسکتاہے؟ اور جسم کے کن حصوں کے بال کاٹ سکتاہے؟ اگرپورے بدن کے یعنی سینہ، پیٹ اور دونوں رانوں کے بھی بال کاٹ سکتاہے تو اس میں کوئی مضائقہ تو نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بدن کے وہ زائد بال جن کو ہر جمعہ کے دِن صاف کرنا چاہیے اگر موقع نہ ملے تو پھر پندرہ دن بعد ورنہ چالیس دن کے بعد تک ان کو چھوڑے رکھنے سے آدمی گناہ گارہوتاہے ،وہ زیرِ ناف اور بغل کے بال ہیں، جبکہ سینے، پیٹ اور کمر کے بال صاف کرنا خلافِ ادب ہے۔ البتہ رانوں کے وہ بال جن کے گندہ ہونے کا احتمال ہو انہیں بھی صاف کرنے میں مضائقہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی حاشیة الطحطاوی: ویحلق عانته وینظف بدنه فی کل اسبوع مرة ویوم الجمعة أفضل ثم فی خمسة عشر یومًا والزائد علی الاربعین اثم اھ. (۲۸۶)
وفی رد المحتار: وفی حلق شعر الصدور والظهر ترك الأدب کذا فی القنیة اھ (۶/ ۴۰۷)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فہیم الدین اسلام عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 8050کی تصدیق کریں
0     283
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات