کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 2023 میں ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا ہے، ان کی ملکیت میں کچھ زمین ہے جس کو ورثاء میں تقسیم کرنا ہے، ورثاء میں مرحوم کی بیوہ ، پانچ بیٹے، اور چار بیٹیاں ہیں، مرحوم کا ترکہ زمین سمیت ان ورثاء میں کس تناسب سے تقسیم ہوگا؟ اور ان میں سے ہر ایک کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ سائل کے مرحوم والد کا ترکہ ان کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد، سونا چاندی، زیورات، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل سولہ (16 ) برابر حصے بنائے جائیں، جن میں سے بیوہ کو دو(2) حصے، ہر بیٹے کو بھی دو (2) حصے، اور ہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -