میں ۲۰۰۹ء سے بے روز گار ہوں اور میں نے ہمیشہ حلال کھانے کی کوشش کی ہے اور ہمیشہ رشوت اور سود کی بنیاد پر کاروبار یا نوکری کرنے سے احتراز کیا ہے ۔ اس حلال کمانے نے میری نوکری میں بہت پریشانیاں کھڑی کی ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے بیوی اور دو بچے نوازے ہیں اور وہ بھی حلال رزق پر ہی یقین رکھنے والے ہیں اور ہم سب اللہ تعالی سے ڈرنے والے ہیں اور اپنی روزانہ معمول کی زندگی میں قرآن وسنت کی تعلیمات کو لانے کی کوشش کرتے ہیں ، اور صلہ رحمی اور صدقات تقسیم کرتے ہیں اور بر وقت زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ جب میں نے اپنی نوکری ترک کی تو بہت سے لوگوں نے مجھے مشورہ دیا کہ اپنی بحث کو ماہانہ منافع اسکیم میں بنک میں رکھنے کا مشورہ دیا ۔ چونکہ یہ سب کچھ سودی بنیادوں پر ہوتا ہے تو میں نے اسے رد کر دیا ۔مجھے امید تھی کہ مجھے جلد ہی نئی نوکری مل جائیگی جیسے مہینے گزرتے گئے میری بچت ختم ہوتی گئی اور اب حال یہ ہے کہ میں نے ایک دوست سے قرض لیا گھر یلو اخراجات چلانے کے لیے۔ کیا آپ مجھے مشورہ دے سکتے ہیں کہ کیا میں نے غلط کیا یا میں غلطی پر ہوں؟ براہ مہربانی اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ میں اور میری سہیلی اللہ سے ڈرنے والے لوگ ہیں ۔
حرام چھوڑ کر سائل نے اگر چہ درست کیا مگر نوکری نہ ملنے پر مایوس ہونے کی بجائے سائل کو ہمت سے کام لینا چاہیے، لہٰذا سائل کو چاہیے کہ پنجگانہ نماز کی پابندی کے ساتھ صلوۃ الحاجة پڑھ کر اللہ تعالی سے دعا کرے اور مغرب اور عشاء کے درمیان سورہ واقعہ روزانہ پڑھنے کا اہتمام کرے اور فجر کی نماز کے لیے گھر سے نکلنے سے پہلے گھر کے چاروں کونوں میں اسم الٰہی ’’ الرزاق‘‘ دس دس مرتبہ پڑھے اور قبلہ رخ ہو کر داہنے گوشے سے ابتدا کرے ان شاء اللہ امید ہے کہ وسعت رزق اور بہترین روزگار حاصل ہو۔