کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام ! اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے، جس کے ورثاء میں بیوہ، ایک بیٹی ، دو بھائی اور ایک بہن موجود ہیں، شرعی طور پر اس کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟
سائل کےمرحوم بھائی کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصول ِمیراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو یا اس نے بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہوتو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل (40) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو (5) حصے ، بیٹی کو (20) حصے، ہر ایک بھائی کو(6 )حصے، اور بہن کو (3) حصے دیے جائیں -