ہم پانچوں بھائی بہن چاہتے ہیں کہ والد مرحوم کا فلیٹ بیچ کر والدہ سمیت سب ورثاء کو شرعی حصہ ادا کر دیں، اور والدہ کے لئے کسی مناسب رہائش کا بندوست کردیں، کیا ایسا کرنا درست ہے؟ نیز اگر ان ساری باتوں کے باوجود والدہ بولے کہ میں مکان نہیں بیچنے دونگی تو کیا شرعی حکم ہوگا ؟
واضح ہو کہ وراثت کی تقسیم جتنی جلدی ممکن ہو ، اتنی جلدی تقسیم کرکے اس فریضہ سے سبکدوشی کی فکر کرنی چاہیئے ، تا کہ بعد میں کسی قسم کی بدمزگی ، آپس کے اختلافات ، لڑائی جھگڑے اور کسی کی حق تلفی کی نوبت نہ آئے، لہذا صورتِ مسؤلہ میں اگر تمام بہن بھائی ترکہ کی تقسیم پر آمادہ ہوں تو والدہ کو چاہیئے کہ وہ اس میں رکاوٹ نہ بنے،بلکہ ترکہ کی تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا حق دے کر اس فریضہ سے سبکدوشی کی فکر کرنی چاہیئے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه اھ ( ج 2 ص 197 )۔
وفیہ ایضاً: "عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين اھ".(باب الغصب والعارية، ج:1، ص:254، ط:قديمي)۔
وفی الدر المختار : (و قسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة و بطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) و في الخانية: يقسم بطلب كل و عليه الفتوى ، لكن المتون على الأول فعليها العول (و إن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض. (ج6،ص 260،ط:سعید)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2