میری کمپنی ہر ماہ منعقد ہونے والی ایک تقریب میں تین اعلیٰ ملازمین کو روزانہ کی بنیاد پر کیش پرفارمنس ایوارڈ دیتی ہے، مجھے اعتراض ہے، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ روزانہ/ماہانہ بنیادوں پر ملازمین کا باقاعدگی سے موازنہ کرنا اچھا نہیں ہے، اس سے ان ملازمین کو بے اطمینانی اور شرمندگی ہوتی ہے، جنہیں اچھی ریٹنگ نہیں ملتی، جو کہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ تاہم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین کو سالانہ تشخیص کی بنیاد پر اچھی انکریمنٹ ملتی ہے، جو ان کی پہچان کے لیے کافی ہے۔اس سلسلے میں آپ کیا مشورہ دیتے ہیں؟
واضح ہو کہ اپنے ملازمین اور ماتحت عملہ کی اچھی کارکردگی کی تعریف کرنا اور اس پر ان کی حوصلہ افزائی کرنا کوئی نامناسب طرزِ عمل نہیں، جس پر سائل کو اعتراض ہو، بلکہ یہ ملازمین کے ساتھ خیر خواہی اور کمپنی مالکان کے لئے کام میں ترقی کا سبب ہے، اس لئے سائل سمیت دیگر وہ تمام ملازمین جن کی کارکردگی کمپنی کی مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچتی، انہیں کمپنی کے اس طرزِ عمل پر معترض ہونے کے بجائے اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
کما فی الموسوعۃ الفقہیۃ: الجائزة: العطية إذا كانت على سبيل الإكرام يقال: أجازه أي: أعطاه جائزة. والجمع جوائز. وقريب منها التحفة فهي ما أتحفته غيرك من البر. قال صاحب اللسان:" وأصلها أن أميرا واقف عدوا وبينهما نهر فقال:من جاز هذا النهر فله كذا، فكلما جاز منهم واحد أخذ جائزة الخ ( 15/ 76)۔