السلام علیکم!
میرے شوہر ٢٠٠٧ میں انتقال کر گئے تھے میرے شوہر کا ایک وراثتی مکان تھا جس میں اس کے والد , سوتیلے بھائی اور بہن وارث ہے، میرے سسر کا ٢٠١٢ میں انتقال ہوگیا اور میرے دیور نے اس مکان پر قبضہ کر لیا ہے , میرے شوہر کی زندگی میں میرے دیور میرے شوہر کو اس مکان کا کرایہ بھی دیتے تھے مگر میرے شوہر کے مرنے کے بعد میرے دیور نے وہ پیسے بھی دینے بند کر دیے ہیں , اب جب میرے شوہر اور میرے سسر انتقال کر گئے ہیں اور میرےدیور اس مکان پر قابض ہیں اور میری نند کو بھی میرےدیور اس کا حصہ دے چکے ہیں اور مجھے اور میرے یتیم بچوں کو یہ بول کر چپ کروا دیا ہے کہ پوتوں کا کوئی حصہ نہیں بنتا اس مکان میں ، پوچھنا یہ تھا کہ قرآن و حدیث کی کس رو سے پوتوں کا حق نہیں بنتا اس مکان میں ؟ قرآن و حدیث سے حوالہ ضرور دیجیے گا اور کیا میرا بھی اپنے شوہر کے گھر سے کوئی حق نہیں بنتا ؟ (بیوہ اور یتیم )کیا کریں؟ شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ اور یتیم سڑک پر آجائیں؟ اور قرآن پاک میں جا بجا یتیموں کے حق کا ذکر ہے تو وہ کیا ہے؟ پلیز وضاحت فرمائیے گا۔
واضح ہو کہ جس بیٹے بیٹی کا انتقال والدین کی زندگی میں ہو جائے ان کی اولاد کا دیگر قریبی ورثا کی موجودگی میں اپنے داد،دادی،یا نانا،نانی کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا ، لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائلہ کے شوہر کا انتقال چونکہ اپنے والد کی زندگی میں ہی ہوچکا تھا، اس لئے سائلہ اور اس کی اولاد کا دیگر ورثاء کی موجودگی میں سسر مرحوم کے ترکے میں تو شرعاً کوئی حصہ نہیں، البتہ سائلہ کے مرحوم شوہر نے اگر بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں کوئی مکان وغیرہ چھوڑا ہو تو اس میں سائلہ اور اس کی اولاد شرعاً حصہ دار ہونگے، لہٰذا سائلہ کے مرحوم شوہر کے وراثتی مکان پر سائلہ کے دیور کا قبضہ کرنا اور سائلہ اور اس کی اولاد کو ان کا حصہ نہ دینا ظلم و غصب پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی رد المحتار: وشروطہ ثلاثۃ: موت مورث حقیقیۃ،أو حکما کمفقود أو تقدیراً کجنین فیہ غیرہ ووجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ أو تقدیراً إلخ (کتاب الفرائض،ج6، صـــ758،ط:سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2