میں اپنے ماموں کے بیٹے سے شادی کرنا چاہتی ہوں، لیکن میرے والدین اس پر راضی نہیں ہیں، میں اُس سے ہر قیمت پر شادی کرنا چاہتی ہوں، کیونکہ میں اس کو پسند کرتی ہوں، لیکن مسئلہ میرے کردار کا ہے، میں اس بات کو بالکل پسند نہیں کرتی کہ کسی اور کو پسند کر کے ان سے شادی کروں، میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ مجھے کوئی وظیفہ بتائیے کہ میرے والدین راضی ہو جائیں، میں بالکل ان کے آگے قدم اُٹھانا نہیں چاہتی ہوں، برائے مہربانی کوئی ایسا وظیفہ بتائیے، جس سے میرے والدین راضی ہو کر اُن سے میری شادی کریں جتنی جلدی ممکن ہو اور مجھے یہ بتائیے کہ کیا اسلام میں وظیفہ کی اجازت ہے؟ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ حدیث میں صلوٰة الحاجۃ کے علاوہ کوئی اور وظیفہ مذکور نہیں ہے، اس نقطہ کو بھی واضح کریں۔
ایسا وظیفہ یا تعویذ جو کسی جائز مقصد کیلئے ہونے کے ساتھ ساتھ جائز اور متبرک کلمات پر مشتمل ہو ،کسی دوسرے کو تکلیف پہنچا نے کیلئے نہ ہو، بلاشبہ جائز ہے۔
جبکہ سائلہ اگراپنے مقصد کیلئے ”صلوٰۃ الحاجۃ“ پڑھنے کے ساتھ ساتھ نمازِ عشاء کے بعد اکیس(۲۱) دنوں تک بلاناغہ اول واخرتین تین مرتبہ درود شریف پڑھ کر اکیس(۲۱) مرتبہ سورۂ یٰسین شریف کی آیت نمبر(۳۶)” {سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنْفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ}“ خوب توجہ اور دھیان سے پڑھ کر اپنے مقصد کیلئے دعا کرے، ان شاء اللہ بہتری ہوگی۔
کما في رد المحتار: ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث في عوذته قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ (6/ 363)