احکام نماز

عصر کی سنتوں میں قعدہ اولیٰ بھولنے کا حکم

فتوی نمبر :
72758
| تاریخ :
2024-04-28
عبادات / نماز / احکام نماز

عصر کی سنتوں میں قعدہ اولیٰ بھولنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ !
عصر سے قبل کی چارسنتوں میں اگر کوئی شخص دوسری رکعت میں بیٹھے بغیر ہی تیسری رکعت کی طرف چلا جائے اور اخیر میں سجدہ سہو کرے تو کیا اس کی یہ نماز صحیح ہوگی؟ اور یہ بھی بتائیں کہ اس صورت میں اسکی کتنی رکعتیں ہوجائیگی ، کیونکہ نوافل تو دو ، دو رکعت ہی مشروع ہے اور یہاں پر وہ دوسری رکعت کو مکمل کیے بغیر تیسری رکعت کی طرف منتقل ہوا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نفل نماز میں اگرچہ افضل یہ ہے کہ وہ دو دو رکعت کر کے ہی پڑھی جائے ، تاہم اگر ایک ہی سلام کے ساتھ چار رکعت نفل ادا کی گئی تو یہ بھی شرعا درست ہے اور ایسا کرنے کو نوافل کا غیر مشروع طریقہ نہیں کہا جاسکتا۔
جبکہ عصر سے قبل چار رکعت سنن غیر مؤکدہ پڑھتے وقت جب چار رکعت کی نیت باندھ لی جائے تو ایسی صورت میں یہ چار رکعت والی نماز ہی شمار ہوگی ، لہذا صورت مسئولہ میں مذکور شخص دوسری رکعت میں تشہد بھولنے کے بعد جب تیسری رکعت کیلیے کھڑا ہوا اور تیسری رکعت کے سجدہ سے قبل تک بھی سابق تشہد میں بیٹھنا یاد نہ آئے اور اخیر میں سجدہ سہو کرکے سلام پھیرلے تو ایسا کرنے سے اسکی چاروں رکعتیں درست ہونگی۔

مأخَذُ الفَتوی

فی مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی : "وإذا صلى نافلة أكثر من ركعتين" كأربع فأتمها "ولم يجلس إلا في آخرها" فالقياس فسادها وبه قال زفر وهو رواية عن محمد وفي الاستحسان لا تفسد وهو قوله "صح" نفله "استحسانا لأنها صارت صلاة واحدة" لأن التطوع كما شرع ركعتين شرع أربعا أيضا "وفيها الفرض الجلوس آخرها" لأنها صارت من ذوات الأربع ويجبر ترك القعود على الركعتين ساهيا بالسجود ويجب العود إليه بتذكره بعد القيام ما لم يسجد كذا في الفتح اہ
وفی حاشیۃ الطحطاوی تحت: وفي الاستحسان الخ" تطويل من غير فائدة فالأولى الإقتصار على ما في المصنف قوله: "لأنها صارت من ذوات الأربع الخ" هذا الكلام صريح في أنها تحسب بتمامها له خلافا لمن قال إنها تحسب شفعا واحدا ولا ينافيه ما ذكره ابن أميرحاج في بحث التراويح لو صلى الكل بسلام واحد ولم يقعد إلا في آخرها اختلف فيه المشايخ والصحيح أنه يجزيه عن تسليمة واحدة كما لو صلى أربعا بتسليمة واحدة ولم يقعد على رأس الركعتين على ما هو الصحيح اهـ لأنه في التراويح خاصة لكونها شرعت على هيئة مخصوصة فلا تؤدى بغيرها فالمعنى أنها تنوب عن ركعتين من التراويح وإن كانت تحسب له عشرين نافلة فتدبر اہ ( ۳۹۲)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدابراہیم خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72758کی تصدیق کریں
0     1421
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات