السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ! کیا زکوٰۃ کا مال کسی مدرسہ میں دے سکتے ہیں؟ جبکہ اس مدرسہ میں امیر اور غریب دونوں طرح کے طالب علم پڑھتے ہیں اور اگر اس مدرسہ کا سارا مال ایک ہی جگہ جمع ہوتا ہے تو کیا اس مال کو مدرسہ کے دوسرے اخراجات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ؟ اور کیا زکوٰۃ کی رقم سے استادوں کی تنخواہ نکال سکتے ہیں ؟ اور کیا زکوٰۃ کا مال مدرسہ کی طرف سے وصول کرنے والوں کو دینے سے زکوٰۃ فورًا ادا ہو جاتی ہے یا جب وہ مال غریب تک پہنچتا ہے، تب زکوٰۃ ادا ہوتی ہے ؟
واضح ہو کہ رہائشی مدرسہ میں عموماً داخلہ کے وقت مستحق طلبہ سے ان کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے اور مدرسہ کے مصارف میں اس کے خرچ کا باقاعدہ اجازت نامہ/ وکالت نامہ لیا جاتا ہے، چنانچہ اس صورت میں مدرسہ کا مہتمم یا اس کی اجازت سے چندہ وصول کرنے والا شخص مستحق طلبہ کا وکیل بن کر لوگوں کی زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ وصول کرتا ہے اور مدرسہ کے مصارف میں وہ رقم خرچ کی جاتی ہے، لہٰذا ایسے رہائشی مدارس میں زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقوم دینے سے اصل مالکان کی زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے اور اس کے بعد اس رقم سے اساتذہ کی تنخواہیں بھی دی جاسکتی ہیں، جبکہ غیر رہائشی مدارس میں عموماً اس طرح کا اجازت نامہ وصول نہیں کیا جاتا، اس لئے ایسے مدارس کے مہتممین مستحق طلبہ کی طرف سے وکیل نہیں ہوتے ہیں، چنانچہ ایسے مدارس میں زکوٰۃ کی رقم دینے سے اس وقت تک اصل مالکان کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، جب تک باقاعدہ مستحق طلبہ کو اس رقم کا مالک نہ بنادیا جائے ۔
کما فی الھندیۃ: ولو نوى الزكاة بما يدفع المعلم إلى الخليفة، ولم يستأجره إن كان الخليفة بحال لو لم يدفعه يعلم الصبيان أيضا أجزأه، وإلا فلا الخ ( ج 1 ص 191 ط: ماجدیۃ)۔
وفیہ ایضاً: أما تفسيرها فهي تمليك المال لخ ( ج 1 ص 170 ط: ماجدیہ)۔
وفیہ ایضاً: إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز الخ ( ج 1 ص 171 )۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0