جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم !
گزارش عرض یہ ہے کہ میرے والد صاحب مرحوم سید لیاقت علی نے ایک پلاٹ میرے نام سے خریدا تھا ، یہ 1984 کی بات ہے ، پلاٹ کی زمین کی قیمت مبلغ بارہ ہزار نو سو پچیس( 12,925) روپے میرے والد نے ادا کردیے تھے 1986 تک ، باقی dues کے ( 31,500 ) مختلف اوقات میں میرے بھائی نے ادا کیے 2006 تک ۔ 2003 کے درمیان میں میرے بھائی نے کہا کہ فائل کینسل ہونے جا رہی ہے ، اس لئے اگر تم بقیہ dues جو کہ تقریباً 10 لاکھ ہیں ، ادا کر سکو تو اپنا مکان بنالو ، چونکہ میں اس رقم کی متحمل نہیں ہو سکتی ، اس لئے یہ پلاٹ سات لاکھ (700000 ) میں فروخت کردیا گیا ، اب آپ سے گزارش ہے کہ شرعی لحاظ سے اس رقم میں سے میرے بھائی کا کیا حصہ بنتا ہے۔
نوٹ : بذریعہ فون معلوم ہوا کہ سائلہ کے والد صاحب نےمذکور پلاٹ خرید کر باقاعدہ سائلہ کو مالکانہ قبضہ بھی دے دیا تھا، بعد میں سائلہ کے بھائی نے(31،500) روپے گیس اور بجلی وغیرہ کی مد میں بطور بل ادا کیے ، اب مذکور بھائی کو اس پلاٹ کی رقم سے کچھ حصہ ملے گا یا نہیں؟
سائلہ کے والد مرحوم نے اگر اپنی صحت والی زندگی میں مذکور پلاٹ خریدکر سائلہ کے نام کرنے کے ساتھ باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا تھا ، تو سائلہ مذکور پلاٹ کی تنہا مالک بن چکی تھی ، لہذا مذکور مکان میں سائلہ کے بھائی کا شرعاً کوئی حصہ نہیں ، البتہ سائلہ کے بھائی نے اگر مذکور ڈیوز ادا کرتے وقت قرض یا واپسی کی صراحت کردی تھی ، تو سائلہ پر مذکور رقم ادا کرنا شرعاً لازم ہے ۔
كما في بدائع الصنائع: وأما حكم الهبة ( إلى قوله) أصل الحكم ثبوت الملك للموهوب له من غير عوض الخ (ج 6، ص 127، ط : سعيد)-
و في الدر المختار : (وتتم) الهبة ( بالقبض ) الكامل الخ ( كتاب الهبة ، ج ۵، ص 690 ، : سعید)-
و في رد المحتار : تحت (قوله الخالية) صفة كاشفة لأن التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين الخ ( كتاب الفرائض ج 6، ص 759، ط : سعيد)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0