السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بڑے بھائی کا انتقال والدین کے انتقال سے پہلے ہوچکا ہے جبکہ بڑے بھائی کے 2 بچے ہیں اور انکی بیوہ کی عدت کے بعد چھوٹے بھائی سے نکاح کر دیا گیا تھا، تو اب جائیداد میں مرحوم بھائی کے بچوں کا حصہ بنے گا ؟
سائل کے جس بھائی کا انتقال والدین مرحومین کی زندگی میں ہوا ہے، شرعاً ان کی بیوی بچے سائل کے والدین مرحومین کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہونگے، البتہ اگر سائل اور اسکے دیگر بہن بھائی اپنے مرحوم بھائی کی بیوہ اور اولاد کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ، جبکہ سائل کے مرحوم بھائی نے بوقتِ انتقال اگر اپنی ملکیت میں کچھ چھوڑا تھا تو اس میں مرحوم کی بیوہ اور بچے حصہ دار ہونگے۔
کما فی تکملۃ: وقد عقد البخاری رحمہ اللہ لھذہ المسئلۃ بابا مستقلا، وترجم لہ وأخرج فیہ عن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ، أنہ قال: ولا یرث ولد الإبن مع الإبن" وزید بن ثابت رضی اللہ عنہ افرض الصحابۃ بنص الحدیث۔
وقد ذکر الإمام أبو بکر الجصاص الرازی رحمہ اللہ فی احکام القرآن 101:2 والعلامۃ العینی فی عمدۃ القاری 238:23 الإجماع علی أن الحفید لا یرث مع الإبن الخ (کتاب الفرائض ج 2 صـ 18 ط: دار العلوم)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2