کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ گزشتہ سال رمضان میں میرے حساب سے جو زکات نکلتی تھی وہ میں نے ڈھائی ہزار نکالی ،تقریباً اس سال کا حساب بھی یہ تھا لیکن ماہِ اگست میں میں نے ایک مستحق بچہ جو میرا رشتہ دار نہیں اس کی تعلیم کی ذمہ داری اقراء اسکول کی لی جس میں فوری طور پر سولہ سو روپے اور ہر مہینہ پانچ سوروپے میرے ذمہ آتے ہیں اور یہ ذمہ داری میں نے اس کے حفظ ہونے تک لی ہے ،جس میں تین سال سے چار سال لگ جائیں گے، ہر سال فیس کی مد میں چھ ہزار لگیں گے، یہ ذمہ داری لیتے وقت میں نے یہ نیت کی تھی کہ زکات کی رقم اس میں دے دوں گا ،لیکن بعد میں یہ رقم زکات سے زیادہ ہوگئی، انشاء اللہ میں یہ رقم دے سکتا ہوں لیکن فی الحال میری یہ گنجائش نہیں کہ ہر سال چھ ہزار دیکر پھر زکات بھی دوں۔
(۱) کیا میرا یہ عمل صحیح ہے کہ سال میں ایک دفعہ زکات نکالنے کی بجائے ہر ماہ ۵۰۰ روپے دے دوں؟
(۲) میرے اس عمل سے میری زکات جو میرے ذمے ہے ادا ہوجائے گی (زکات کی رقم چھ ہزار سے کم بنتی ہے)۔
(۳) فیکٹری میں ’’گولڈن اسکیم‘‘ کیلئے لوگ استعفی دیتے ہیں یونین اور مالکان کے درمیان معاملہ طے ہوکر جو بھی رقم دے رہے ہیں، وہ اس پر زکات کاٹ رہے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ (گریجویشن) آپ ہی کی رقم ہمارے پاس جمع تھی اس لئے ہم کاٹ رہے ہیں (لوگوں نے فارم جمع کردئیے کہ ہم اپنی زکات خود دیں گے)۔
آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ جب وہ رقم یا چیک ہمارے قبضے میں آجائے تو ہم ایک سال گزرنے پر دے دیں یا ابھی فوراً دیں؟
مذکور طریقہ سے ماہانہ ۵۰۰ پانچ سو روپے کے حساب سے بھی زکوٰۃ دینا جائز ہے۔
(۲) مذکور رقم سے پہلے اگر ملازم صاحبِ نصاب ہو تو مذکور اسکیم سے بقدرِ نصاب ملنے کی صورت میں سال گزرنے کے بعد جتنی رقم اور دیگر اموال زکوۃ موجود ہیں سب کی زکوٰہ نکالنا واجب ہوگا اور اگر پہلے سے صاحبِ نصاب ہو ،تو اپنی زکوٰۃ کا سال پورا ہونے پر ہر شخص کو دوسرے اموال کے سال ملاکر مذکور اسکیم سے ملنے والی رقم کی بھی زکوۃ نکالنا واجب ہوگا۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0