محترم و مکرم جناب مفتی صاحب !
السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !بعد سلامِ مسنون عرض ہے کہ آں محترم سے ایک مسئلہ کی بابت شرعی رہنمائی چاہیئے ، امید ہے کہ جواب عنایت فرماکر ممنون فرماویں گے،
سوال:ايوب بھائی کا انتقال ہوا، مرحوم کے ورثا میں ان کی اہلیہ سلمی، دو بیٹے عتیق اور عمیر، اور دو بیٹیاں اقصی اور شفا،اور مرحوم کی والدہ حلیمہ ہیں، عتیق نے تقسیمِ وراثت کے وقت دیگر ورثاء سے کہا کہ آپ لوگوں کے حصے میں آنے والی والد صاحب کی جائیداد , میں آپ لوگوں سے خرید لیتا ہوں، میرے پاس ابھی پیسے نہیں ہیں، جب پیسے آئیں گے ،میں آپ لوگوں کو چکا دوں گا، جائیداد کی قیمت مثلاً دس لاکھ روپے طے کرلی گئی، مگر اس بیع پر نہ کوئی دستاویز لکھی گئی ،نہ ہی قیمت ادا کرنے کی کوئی تاریخ متعین کی گئی، اب چند سالوں کے بعد جب ان جائیداد کی قیمت تقریباً دوگنا کے آس پاس ہوچکی ہے تو اب عتیق ان جائیداد کو بیچ کر ورثاء کو جائیداد کی حالیہ قیمت کے بجائے اپنے درمیان طے کردہ پہلی قیمت یعنی دس لاکھ کے حساب سے رقم ادا کرنا چاہتا ہے۔تو سوال یہ ہے کہ:(1)عتیق نے تقسیمِ وراثت کے وقت تقسیم کے بجائے ورثا سے جو بیع کی ہے تو مشترکہ جائیداد میں حصوں کو متعین کرنے سے پہلے یہ بیع درست ہوئی یا نہیں؟
(2)قیمت ادا کرنے کا وقت متعین نہ کرنے کی صورت میں ورثاء کے درمیان کی جانے والی یہ بیع درست ہوئی یا نہیں؟
(3) عتیق کا جائیداد کو حالیہ زیادہ قیمت میں بیچ کر، سالوں پہلے ورثاء کے درمیان طے شدہ کم قیمت کے اعتبار سے وراثت کے پیسے چکانا درست ہے یا نہیں؟
صورتِ مسؤلہ میں مرحوم کے بیٹے مسمیٰ (عتیق) نے اگر تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے مرحوم کی جائیداد کو دس لاکھ کے عوض خرید لیا تھا جس کا ورثاء اقرار کریں تو یہ بیع منعقد ہوچکی تھی، اب جب مسمیٰ عتیق نے وہ جائیداد بیچ دی ہے تو اس کے ذمہ صرف وہی دس لاکھ روپے ورثاء کو دینا لازم ہے، لہذا ورثاء کا موجودہ ریٹ کے حساب سے رقم کا مطالبہ کرنا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی شرح المجلۃ: بيع حصة شائعة معلومة كالثلث والنصف والعشر من عقار مملوك قبل الإفراز صحيح، لانہ لایشترط فی صحۃ البیع الافراز عند التسلیم الخ (المادہ 214، ج 1، ص 107، ط: اسلامیہ)۔
و فی الھدایۃ: البيع ينعقد بالإيجاب والقبول إذا كانا بلفظي الماضي (الی قولہ) و اذا حصل الایجاب و القبول لزم البیع و لاخیار لواحد منھما الخ (کتاب البیوع، ج 3، ص 19، ط: رحمانیہ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0