السلامُ علیکم! ایک شخص جس کے تین چھوٹے بچے ہیں اور ایک بیوی ہے، اپنا ذاتی گھر نہیں، کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں، مرد مزدوری کرتا ہے اور بیوی کپڑے سلائی کر کے اور لوگوں کے گھروں میں کام کر کے گزر بسر کر رہے ہیں، کیا ایسے شخص کو زکوٰۃ کا پیسہ دیا جا سکتا ہے؟ اور میں چاہتا ہوں کہ اس سال رمضان میں اپنے حصہ کی زکوٰۃ کی رقم سے میں اس کو ایک رکشہ لے کر دے دوں ، تو کیا یہ جائز ہو گا؟ مطلب یہ کہ زکوٰۃ کے پیسوں سے اس کے لئے ایک رکشہ لینا چاہتا ہوں، تا کہ وہ اپنا خود کا کاروبار کر سکے۔ زکوٰۃ کا پیسہ ادھر لگایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ آپ کے جواب کا منتظر۔
واضح ہو کہ اگر مذکور شخص واقعۃً مستحقِّ زکوٰۃ ہو، یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر مالِ تجارت، نقدی اور ضرورت سے زائد سامان نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو وہ مستحقِّ زکوٰۃ ہے، لہٰذا سائل کے لئے زکوٰۃ کی رقم سے مذکور شخص کو رکشہ خرید کر دینا بلاشبہ جائز ہے۔
کما فی الدر المختار: باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر، وأما خمس المعدن فمصرفه كالغنائم (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة. (ومسكين من لا شيء له) على المذهب، - لقوله تعالى {أو مسكينا ذا متربة} [البلد: 16]- وآية السفينة للترحم (وعامل) يعم الساعي والعاشر (فيعطى) ولو غنيا لا هاشميا لأنه فرغ نفسه لهذا العمل فيحتاج إلى الكفاية الخ ( باب المصرف ج 2 ص 339 ط: سعید )۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0