السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اپنی بھابی اور یتیم بھتیجی کو زکوۃ دی جا سکتی ہے ؟ جبکہ ان کا اپنا گھر ہے اور کار بھی ہے جو ان کے شوہر اپنی زندگی میں بنا گیا تھا لیکن اب کوئی آسرا نہیں ہے نہ کوئی کمانے کا ذریعہ ہے ۔
سائلہ کی بیوہ بھابی اور بھتیجی کے پاس رہائشی مکان اور ذاتی استعمال کے لئے گاڑی کے علاوہ ساڑھے سات تولہ سونا،ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی ، مال تجارت اور ضرورت سے زائدسامان نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو ، تو سائلہ کے لئے زکوۃ کی رقم سے ان کی مدد کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے ، بلکہ زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے ۔
قال اللہ تعالی: اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسَاكِيْنِ وَالْعَامِلِيْنَ عَلَيْـهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُـهُـمْ وَفِى الرِّقَابِ وَالْغَارِمِيْنَ وَفِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۖ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّـٰهِ ۗ وَاللّـٰهُ عَلِيْـمٌ حَكِـيْـمٌ اھ ( آیتـ 60 سورۃ التوبۃ )
و فی رد المحتار: تحت ( قولہ و إلی من بینھما ولاد ) و قید بالولاد لجوازہ لبقیۃ الاقارب لإخوۃ و الأعمام و الآخوال الفقراء بل ھم أولی لأنہ صلۃ و صدقۃ، و فی الظھیرۃ: و یبدأ فی الصدقات بالأقارب ، ثم الموالی ثم الجیران و لو دفع زکاتہ إلی من نفقتہ واجبۃ علیہ من الأقارب جاز الخ ( کتاب الزکاۃ باب المصرف ج 2 صـ 346 ط: سعید )واللہ اعلم
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0