کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے دادا کا انتقال ہوا ، جن کے ورثاء میں بیوہ، تین بیٹے اور دوبیٹیاں موجود تھیں، پھر دادی کا انتقال ہوا جس کے ورثاء بھی یہی تھے، پھر ہمارے والد صاحب اور چچاؤں نے کل جائیداد تین بھائیوں میں تقسیم کردی اور بہنوں کو حصہ نہیں دیا ، اب ہم ذاتی طور پر اپنی پھوپھیوں کے بچوں کو حصہ دینا چاہتے ہیں تو اس کاکیا طریقہ ہوگا۔
سوال میں ذکر کردہ بیان کے مطابق اگر سائل کے والد اور چچاؤں نےوالدین کے ترکے کو آپس میں تقسیم کرکے اس میں اپنی بہنوں کو ان کاشرعی حصہ نہ دیا ہو تو ان کایہ عمل ظلم اورغصب پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام تھا ، اور اس سے شرعاً بہنوں (سائل کی پھوپھیوں ) کا حق ختم نہیں ہوا بلکہ وہ والدِ مرحوم کے ترکے میں بدستور حقدار ہیں ، چنانچہ اگر سائل کی پھوپھیاں حیات ہوں تو سائل اور اس کے دوسرے حقیقی اور چچازاد بہن بھائیوں کے ذمہ اپنی پھوپھیوں اور پھوپھیوں کے وفات کی صورت میں ان کی اولاد اور ورثاء کو ان کا شرعی حصہ حوالہ کردیناشرعاً لازم اور ضروری ہے ، جس کا طریقہ کار ورثاء کی تفصیل اور ان وفات کی ترتیب ذکرکرکے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح : عن سعيد بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أخذ شبراً من الأرض ظلماً ، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين۔ (1/254)۔
و فی ردالمحتار : و الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال و جب رده عليهم و إلا فإن علم عين الحرام لا يحل له و يتصدق به بنية صاحبه۔ (7/301)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2