میرے والد ۷۰ لاکھ کے مقروض ہیں جو انہیں میری بہن کو اتارنا ہیں، والد ۷۵ برس کے ہیں ، آمدنی ماہانہ ۱,۲۵,۰۰۰ پینشن اور ۸۰،۰۰۰ روپیہ گھر کا کرایہ آتا ہے جو کہ گھر کی ضروریات میں خرچ ہو جاتا ہے اور کچھ خاص نہیں بچتا، اس کے علاوہ کوئی آمدنی نہیں ہے، کیا میرے والد پر زکوٰۃواجب ہوگی یا پہلے قرض ادا کرنا ہوگا؟ بصورتِ زکوٰۃ واجب ہونے کیا وہ قرض میں ادا کر سکتے ہیں؟ کیا میں اپنی زکوٰۃ اپنے والد کا قرض اتارنے کی مد میں دےسکتا ہوں؟ کیا میرا یہ عمل جائز ہوگا؟
سائل نے والد کے ذمہ بیٹی کے قرض کی نوعیت اور تفصیل ذکر نہیں کی تا کہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائل کے والد کے ذمہ بیٹی کا قرض فوری نوعیت کا ہو اور قرضے کی رقم منہا کرنے کے بعد سائل کے والد کے پاس سونا ، چاندی ، نقدی اور مالِ تجارت میں سے کچھ بقدرِ نصاب (ساڑھے باؤن تولہ چاندی کی مالیت)موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کے والد کے ذمہ زکوٰۃ لازم نہ ہوگی ۔
جبکہ سائل کے لئے اپنے والد کو زکوٰۃ دینا تو جائز نہیں اور اس سے سائل کی زکوٰۃ بھی ادا نہ ہوگی ، البتہ زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم کے علاوہ سائل کا دیگر اموال کےذریعےوالد کا قرض اتارنے میں والد کےساتھ تعاون کرنا بلاشبہ جائز اور درست بلکہ دہرے اجر و ثواب کا باعث ہے ، چنانچہ سائل کو اس کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
ففی الدر المختار: (و سببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) ... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد).( 2/ 259)۔
و فی فتح القدير : ( و من كان عليه دين يحيط بماله فلا زكاة عليه ) و قال الشافعي : تجب لتحقق السبب و هو ملك نصاب تام . و لنا أنه مشغول بحاجته الأصلية فاعتبر معدوما كالماء المستحق بالعطش و ثياب البذلة و المهنة ( و إن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا ) لفراغه عن الحاجة الأصلية ، و المراد به دين له مطالب من جهة العباد حتى لا يمنع دين النذر والكفارة - (3 / 475)۔
و فی البحر الرائق : قوله ( و أصله و إن علا و فرعه و إن سفل ) بالجر أي لا يجوز الدفع إلى أبيه و جده و إن علا و لا إلى ولده و ولد ولده و إن سفل لأن المنفعة لم تنقطع عن المملك ( الملك) من كل وجه كما قدمه في تعريف الزكاة لأن الواجب عليه الإخراج عن ملكه رقبة و منفعة و لم يوجد في الأصول و الفروع الإخراج عن ملكه منفعة و إن وجد رقبة و في عبده وجد الإخراج منفعة لا رقبة كذا في المستصفى و فيه إشارة إلى أن هذا الحكم لا يخص الزكاة بل كل صدقة واجبة لا يجوز دفعها لهم كأحد الزوجين كالكفارات و صدقة الفطر و النذور و قيد بأصله و فرعه لأن من سواهم من القرابة يجوز الدفع لهم و هو أولى لما فيه من الصلة مع الصدقة كالإخوة و الأخوات و الأعمام و العمات و الأخوال و الخالات الفقراء و لهذا قال في الفتاوى الظهيرية و يبدأ (يبدأ) في الصدقات بالأقارب ثم الموالي ثم الجيران- (2 / 262)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0