30 سال پہلے میرے ماموں نے اپنی والدہ کی 1/8 وراثت کا مقدمہ سابق شوہر کے وارثوں کے خلاف دائر کیا تھا،میری نانی کی زندگی میں، شروع میں اس نے اپنے بھائی اور اپنی تین بہنوں کے شوہروں سے کہا کہ وہ اخراجات اور ہر چیز کے لحاظ سے کیس میں شامل ہوں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، 2005 میں وہ ہائی کورٹ سے کیس جیت گئے، اس کے بعد مخالف فریق اپنی ہی ایک عورت کو لے کر آیا کہ وہ بھی اس شخص کی بیوی ہے، انہوں نے ایسا اس لیے کیا کہ انہیں کم وراثت دینا پڑے،نکاح کا کوئی ثبوت نہیں تھا،میرے ماموں نے ان سے کہا کہ اگر وہ صحیح ہیں تو حلف لیں۔ ایک وارث نے جھوٹی قسم کھائی(بعد میں اس کی موت انتہائی بدحالی سے ہوئی) کیس چلتا رہا،اسی دوران میری نانی کا انتقال ہو گیا،2023 میں کیس کا فیصلہ آیا، میرے ماموں کیس جیت چکے ہیں، اب زمین تمام ورثاء کو منتقل ہو گئی ہے ،کیونکہ نانی کا انتقال ہو گیا تھا،میرے ماموں 2 بھائی اور تین بہنیں ہیں (تمام بہنیں بیوہ ہیں)میرے ماموں نے کہا کہ وہ دوسری مبینہ بیوی کے ورثا کو کیس سے پیچھے ہٹنے کے لئے مخصوص رقم دیتے ہیں،میرے ماموں سب سے یہ کہتے ہوئے زمین واپس کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ تمام مشکلات سے گزرے ہیں، اس نے ہر چیز کا سامنا کیا، اس نے سارے اخراجات اٹھائے،لیکن بہنیں کہہ رہی ہیں کہ ہمارے بھی بچے ہیں، ہم تمہیں کوئی زمین نہیں دیں گے،اب وہ آدھی زمین مانگتا ہے،براہِ کرم اس سلسلے میں شریعت کیا کہتی ہے؟
صورت مسؤلہ میں اگر سائل کے ماموں نے کیس لڑتے وقت مذکور اخراجات کے قرض ہو نے کی یا مذکور رقم ترکہ سے منہا کر نیکی صراحت کی ہو تو اس کے لئے اپنی بہنوں سے مذکور رقم کے بقدر مطالبہ کرنا شرعاً جائز ہے ، البتہ مذکور رقم کے علاوہ آدھی زمین کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً جا ئز نہیں اور نہ ہی بہنوں پر اپنے حصہ کی زمین واپس کر نا شرعاً لازم ہے ، لہذا سائل کے ماموں کو اپنے اس ناجائز مطالبہ سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی تنقیح الحامدیۃ:المتبرع لایرجع بما تبرع بہ علی غیرہ کما لوقضی دین غیرہ بغیر امرہ (کتاب الدینات ج2 ص391 ط:قدیمی )
وفی تکملۃردالمحتار: الارث جبری لایسقط بالاسقاط الخ(مطلب واقعۃالفتویٰ ج7 ص555 ط:سعیدم)
وفی قاضی خان:للواھب أن یرجع فی ھبۃمن غیر المحارم مالم یعوض أو ازدادت الھبۃ فی بدنھا (الی قولہ)ولا یر جع فی الھبۃمن المحارم بالقرابۃ کالآباء والأمھات…….وکذا الأخوۃ والأخوات والأعمام والعمات الخ (کتاب الھبۃج7 ص343 ط:رشیدیہ)۔