کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم چار (4) بھائی اور ایک (1) بہن ایک ساتھ رہتے تھے ، 2015 میں میرے والد کا انتقال ہوگیا اور اس کے ایک سال بعد میری والدہ کا بھی انتقال ہو گیا ، بڑا بیٹا ہونے کے ناطے دونوں کے ہسپتال اور تدفین کا سارا خرچہ میں نے اٹھایا اور ان کے گزر جانے کے بعد گھر کی ساری ذمہ داری میرے اوپر آگئی ، میرا بھائی "شاہ فیصل " گاؤں چلا گیا الگ ہو کر ، فرہاد اور بہن اس وقت اسکول پڑھ رہے تھے ، وسیم کام کرتا تھا اور اسکی تنخواہ بارہ (12)ہزار سے پندرہ (15)ہزار تک تھی ، اس تنخواہ میں اس کا ، اس کے بچوں کا خرچہ ،بجلی کا بل ، پانی ،ڈاکٹر وغیرہ سب میرے ذمہ تھا ، اسی دوران میں نے بہن کی شادی کا سارا خرچہ خود اٹھایا اور اس کے کچھ عرصے بعد میں نے چھوٹے بھائی فرہاد کی بھی شادی کروادی اور اس کی شادی کا سارا خرچہ میں نے کیا ، میں اس وقت دو (2) سے تین (3) لاکھ تک سیلری (تنخواہ) پر کام کررہا تھا ، وسیم مجھے پیسے دیتا تھا تقریباً 15 ہزار ،باقی جو بھی خرچہ ہوتا تھا ، وہ میں خود دیتا تھا ، اس وقت تمام بھائیوں میں میری ماہانہ آمدن سب بھائیوں سے زیادہ تھی تو میں نے کچھ پیسے جوڑ کر ایک مکان لے لیا ، میں نے اس گھرمیں اکیلے جانا مناسب نہیں سمجھا اور بھائیوں کو ساتھ لے گیا ،تاکہ یہ لوگ کرائے سے بچ جائیں ، اب 2023 میں ہمارے بچے بڑے ہوگئے ہیں اور ہم الگ ہونا چاہتے ہیں ، آپ کے علم میں، میں نے ساری بات ڈال دی ، اب اس دوران میں نے جو بھی بنایا گھراور کاروبار ، اس میں میرے بھائیوں کے پیسے استعمال نہیں ہوئے ، میرے بھائیوں نے جو بھی کمایا اور میرے حوالے کیا ،میں نے اس سے بڑھ کر ان پر خرچ کیا جو میں نے اوپر بیان کیا ہے ،لہذا اس سلسلے میں آپ صاحبان میری رہنمائی فرمائیں کہ جو بھی میں نے بنایا ہے اس میں میرے ساتھ میرے بھائیوں کا حصہ بنتا ہے یانہیں ؟ تاکہ کل بروز قیامت اپنے بھائیوں کا مجرم نہ بنوں ۔ شکریہ۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل نے اپنے ذاتی پیسوں سے اپنے لئے کاروبار شروع کیا ہو یا اپنے لئے گھر بنایا ہو ، اس میں دیگر بھائیوں کی یا مرحوم والدین کے ترکہ کی رقم شامل نہ ہو تو ایسی صورت میں مذکور گھر اور کاروبار سائل کی ملکیت ہے ، سائل کے دیگر بھائیوں یا بہن کا شرعاً اس میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی ان کو مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر سائل اپنے کسی بھائی بہن کو اپنی جائیداد سے بخوشی کچھ دینا چاہے تو اسے مکمل اختیار حاصل ہے ، البتہ ایسا کرنا اس پر لازم نہیں ۔
کما فی مجلة احکام العدلیة : کل یتصرف فی ملکہ کیفما شاء ، لکن اذا تعلق حق الغیر بہ فیمنع المالک من تصرفہ علی وجہ الاستقلال اھ (ص/230)۔
و فی الدر المختار: (و ما حصله أحدهما فله و ما حصلاه معا فلهما)
و فی الشامیة: (قوله: و ما حصله أحدهما) أي بدون عمل من الآخر(الیٰ قولہ) مطلب: اجتمعا في دار واحدة و اكتسبا و لا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج و تكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها اھ (4/325)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2