کیا مدرسہ کا ذمہ دار زکوٰۃ کا پیسہ اپنی ذاتی مصروفیات میں استعمال کرسکتا ہے ؟
کسی ادارے کے منتظمین، لوگوں سے زکوۃ وصول کرنے کے بعد ، براہ راست اسے مصرفِ زکوۃ کے علاوہ کسی اور جگہ خرچ نہیں کرسکتے ، بلکہ اسے مصرفِ زکوۃ میں خرچ کرنا لازم اور ضروری ہے ، ورنہ لوگوں کی زکوۃ کی ادائیگی شرعاً درست نہ ہوگی۔
فی الدر المختار : ولو تصدق بدراهم نفسه أجزأ إن كان على نية الرجوع و كانت دراهم الموكل قائمة الخ
و فی رد المحتار : (قولہ و لو تصدق الخ)أي الوكيل بدفع الزكاة إذا أمسك دراهم الموكل و دفع من ماله ليرجع ببدلها في دراهم الموكل صح . بخلاف ما إذا أنفقها أولا على نفسه مثلا ثم دفع من ماله فهو متبرع الخ (کتاب الزکوٰۃ 15/2)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0